کوئٹہ دھماکے: تدفین سے انکار، احتجاج جاری

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 12 جنوری 2013 ,‭ 05:01 GMT 10:01 PST

بلوچستان شیعہ کونسل نے کوئٹہ میں دھماکوں میں ہلاک ہونے والے شیعہ افراد کو احتجاجاً دفنانے سے انکار کیا ہے

بلوچستان شیعہ کونسل نے کوئٹہ کو فوج کے حوالے کرنے تک جمعرات کو شہر میں دھماکوں میں ہلاک ہونے والے شیعہ افراد کی لاشوں کو دفنانے سے انکار کیا ہے اور ان کا احتجاج جاری ہے۔

کوئٹہ میں جمعرات کو ایک خود کش حملےاور دو بم دھماکوں میں پچانوے افراد کی ہلاکت کے بعد بلوچستان شیعہ کونسل نے ہلاک ہونے والے چوہتر شیعہ افراد کی لاشیں جمعہ کو علمدار روڈ پر رکھ کر احتجاجی دھرنا شروع کیا تھا جو ابھی تک جاری ہے۔

بلوچستان شیعہ کونسل کا مطالبہ ہے کہ کوئٹہ کو فوج کے حوالے کیا اور ٹارگٹڈ آپریشنز کیے جائیں اور جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے اس وقت تک لاشوں کی تدفین نہیں کی جائے گی۔

بلوچستان کے ہوم سیکرٹری داخلہ اکبر حسین درانی کا کہنا ہے کہ حکام کی مظاہرین سے بات چیت کا سلسلہ جمعہ کی رات سے جاری ہے اور اس میں جلد کامیابی کا امکان ہے جس کے بعد لاشوں کی تدفین ہو سکے گی۔

پاکستان کے وزیر اعظم کے دفتر سے سنیچر کو جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بلوچستان حکومت کی درخواست پر ایف سی کو حکم دیا ہے کہ وہ بلوچستان کے سیول انتظامیہ کی مدد کرے۔

بیان کے مطابق ایف سی کو پولیس کے مکمل اختیارات حاصل ہونگے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کو بیرنی دورہ منسوخ کرکے جلد ملک واپس پہنچنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

وزیر اعظم نے ہر ہلاک ہونے والے کے لواحقین کے لیے دس لاکھ اور ہر زخمی ہونے والے کے لیے ایک لاکھ روپے کے امدادی رقم کا اعلان بھی کیا ہے۔

جاری کردہ بیان کے مطابق وزیر اعظم اگلے ہفتے کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ہزارہ قبیلے کے نمائندوں سے ملاقات بھی کریں گے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے زخمیوں کو بہتر طبی امداد مہیا کرنے کے لیے انہیں C-130 جہاز کے ذریعہ کراچی بھیجنے کے احکامات بھی جاری کردیے ہیں۔

ادھر ان دھماکوں کے زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ جس عمارت میں دھماکہ ہوا تھا اس کے ملبے سے ساری لاشیں نکال لی گئیں ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جمعرات کو پانچ گھنٹوں کے دوران ہونے والے ایک خودکش حملے اور دو بم دھماکوں میں پچانوے افراد ہلاک جبکہ ایک سو ستّر زخمی ہو گئے تھے۔

بلوچستان کی حکومت اور شیعہ تنظیموں نے ان ہلاکتوں پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا جبکہ کوئٹہ کی تاجر تنظیموں اور شیعہ برادری کی اپیل پر دھماکوں کے خلاف جمعہ کو شہر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی تھی۔

ہڑتال کی وجہ سے کوئٹہ کے تمام اہم کاروباری مراکز بند رہے جبکہ ہلاک شدگان کی تدفین کے تناظر میں شہر میں سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا تھا۔

علمدار روڈ پر دوہرے دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں میں عام شہریوں کے علاوہ فرنٹیئرکور بلوچستان کے ترجمان مرتضیٰ بیگ، کوئٹہ پولیس کے ایک ڈی ایس پی اور ایک ایس ایچ او سمیت نو اہلکار اور ایدھی اور دیگر رضاکار تنظیموں کے دس سے زائد کارکن بھی شامل تھے۔

اس کے علاوہ پاکستان کے نجی ٹی وی سماء کے نامہ نگار سیف الرحمان، ایک کیمرہ مین عمران شیخ اور نیوز ایجنسی این این آئی کے فوٹوگرافر اقبال بھی ان دھماکوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔

کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیم یونائیٹد بلوچ آرمی نے پہلے جبکہ شدت پسند کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی نے بقیہ دو دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اسی بارے میں

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>