
حکومت سب کام عدالت پر نہ چھوڑ دے اور خود بھی اقدامات کرے: چیف جسٹس
حکومتِ پاکستان نے پہلی بار اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ وہ سات سو کے قریب مشتبہ شدت پسندوں کو بغیر قانونی کارروائی کے حراست میں رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان کے اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا ہے کہ ان قیدیوں کو افغانستان کی سرحد کے قریب واقع عسکری نظر بندی کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔
عرفان قادر نے کہا کہ علاقے میں ایک ’جنگ کی طرح کی صورتحال‘ ہے اور یہ لوگ اس وقت تک حراست میں رہیں گے جب تک یہ آپریشن جاری رہے گا۔
پاکستان کے اٹارنی جنرل نے یہ اعتراف دو ہزار دس میں اڈیالہ جیل سے رہا ہونے والے افراد کی انٹیلجنس ایجنسیوں کی جانب سے حراست کے مقدمے کی سماعت کے دوران کیا۔
اٹارنی جنرل عرفان قادر نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جنگی حالات میں کسی بھی ملک کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکے۔ جنگی حالات میں ایسے مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف ثبوت ملنا مشکل ہوتا ہے جس سے عدالتی تحقیقات میں ایسے افراد بری ہو جاتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جنگی حالات کے اختتام تک ہی ان زیر حراست افراد کو قانونی چارہ جوئی کے لیے پیش کیا جائے گا اور اس طریقۂ کار کی قانونی حیثیت موجود ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسے بے شمار کیمپ ہیں جہاں ایسے مشتبہ دہشت گردوں کو رکھا گیا ہے۔
حکومت نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر سے لاپتہ ہونے والے افراد میں سے پاڑہ چنار میں خفیہ اداروں کے حراستی مرکز میں قید سات افراد پر قبائلی علاقوں کے قانونی نظام ایف سی آر کے تحت مقدمات چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ ساتوں افراد ساڑھے تین سال قبل راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر سے لاپتہ ہونے والے گیارہ افراد میں سے ہیں جبکہ ان میں سے دو سگے بھائیوں سمیت باقی چار افراد کا انتقال ہو چکا ہے۔
ادھر اڈیالہ جیل کے باہر سے لاپتہ ہونے والے افراد کے معاملے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ حکومت ان افراد کے بارے میں فیصلہ کرے اور اگر اس ضمن میں فیصلہ آیا تو اس کے نتائج سب کو بھگتنا پڑیں گے۔
جمعرات کو معاملے کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ یہ سات افراد فاٹا میں فوجی قافلوں پر حملے میں ملوث ہیں اور ان کے خلاف مقدمات ایف سی آر کے قانون کے تحت چلائے جائیں گے۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آئی ایس آئی لکھ کر دے چکی ہے کہ ان افراد کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تو اٹارنی جنرل کے پاس ان کے فوجی قافلوں پر حملوں میں ملوث ہونے کے ثبوت کہاں سے آگئے۔
خیال رہے کہ گزشتہ سماعت پر آئی ایس ائی کے وکیل راجہ ارشاد نے کہا تھا کہ اِن افراد کے خلاف ایسے ثبوت نہیں ملے جن کی بنا پر اِن کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی ہو۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ان افراد کو پندرہ ماہ تک کس قانون کے تحت حراست میں رکھا گیا اور اگر قیدیوں کے خلاف ثبوت تھے تو ٹرائل مکمل کیوں نہیں کیا گیا۔
اڈیالہ جیل کے لاپتہ قیدی
اُنتیس مئی سنہ دو ہزار نو کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کی طرف سے عدم ثبوت کی بنا پر رہا ہونے والے گیارہ افراد کو خفیہ اداروں کے اہلکار اڈیالہ جیل کے باہر سے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے اور دسمبر دو ہزار دس میں عدالت کو بتایا گیا تھا کہ یہ افراد فوج کی تحویل میں ہیں جبکہ چھبیس جنوری دو ہزار بارہ کو عدالت میں ان افراد کے پاڑہ چنار میں قید ہونے کی تصدیق کی گئی تھی۔
اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ان افراد کو جہاں سے پکڑا گیا وہاں جنگ کی صورتحال ہے اور ان کے خلاف قبائلی علاقہ جات کے قانونی نظام ایف سی آر کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔
عرفان قادر کا کہنا تھا کہ قیدیوں کے خلاف شواہد ہیں اور ایک ماہ میں ان کا ٹرائل مکمل کیا جائے گا۔
سیکریٹری فاٹا ناصر جمال نے سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ ان ساتوں افراد سے دستی بم اور غیرقانونی اسلحہ بھی برآمد ہوا جس پر ملزمان کے وکیل نے کہا کہ جب یہ لوگ تین سال سے فوج کی تحویل میں ہیں تو ان سے اسلحہ کیسے برآمد ہوا۔
چیف جسٹس نے سیکرٹری فاٹا کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان قیدیوں کے بارے میں فیصلہ کریں اور اگر اس ضمن میں عدالت نے فیصلہ دیا تو نتائج سب کو بھگتنے پڑیں گے۔
اس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اگر وہ ان افراد کی رہائی کا حکم دیتی ہے تو اس پر عمل کیا جائے گا جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حکومت سب کام عدالت پر نہ چھوڑ دے اور خود بھی اقدامات کرے۔






























