
نئے سال کے آغاز سے ہی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون طیاروں کے میزائل حملوں میں دو غیر ملکیوں سمیت سات شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ حملے پیر اور منگل کی درمیانی شب تحصیل میر علی کے دو دیہات عیسو خیل اور حیدرخیل میں ایک گھنٹے کے وقفے سے ہوئے۔
انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں حملوں میں میزائلوں سے دو مکانات کو نشانہ بنایا گیا جس سے وہ تباہ ہوگئے۔
اہلکار کے مطابق یہ دونوں مکانات کافی عرصے سے شدت پسندوں کے زیرِ استعمال تھے۔
اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ حیدرخیل میں ہونے والے حملے میں چار افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں جبکہ عیسو خیل کے حملے میں تین افراد مارے گئے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق حیدرخیل میں ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں دو ازبک شدت پسند بھی شامل ہیں جبکہ عیسو خیل میں ہلاک ہونے والے تمام افراد مقامی تھے۔
خیال رہے کہ نئے سال کے آغاز سے ہی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور سال کے پہلے ہی ہفتے میں تازہ حملوں کو ملا کر کل پانچ ڈرون حملے ہو چکے ہیں۔
تین جنوری کو امریکی ڈرون طیاروں نے جنوبی اور شمالی وزیرستان میں دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا تھا جس میں طالبان کمانڈر ملا نذیر سمیت نو شدت پسند ہلاک ہوگئے تھے۔
اس کے بعد چھ جنوری کو جنوبی وزیرستان میں بوبڑ خیل کے پہاڑی علاقے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے حکیم اللہ محسود گروپ کے ایک تربیتی مرکز پر دو میزائل داغے گئے تھے جس میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
خیال رہے کہ رواں ہفتے بھی پاکستان نے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کیا ہے اور ماضی میں بھی وہ کئی بار باضابطہ طور پر امریکہ سے احتجاج کر چکا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون حملے ملکی خودمختاری کے خلاف ہیں جبکہ امریکہ کہتا ہے کہ حملے شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں ایک موثر ہتھیار ثابت ہو رہے ہیں اور ان کا قانونی اور اخلاقی جواز موجود ہے۔






























