جنوبی وزیرستان میں ڈرون حملہ 8 ہلاک

آخری وقت اشاعت:  اتوار 6 جنوری 2013 ,‭ 09:23 GMT 14:23 PST

فاٹا حکام کے مطابق یہ حملہ کالعدم تحریک طالبان حکیم اللہ محسود گروپ کے ایک تربیتی مرکز پر کیا گیا۔

پاکستان میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ایک ڈرون حملے میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق یہ ڈرون حملہ تحصیل لتہ کے علاقے بوبڑ خیل کے پہاڑی علاقے میں ہوا جہاں جاسوس طیارے نے دو میزائل داغے جن کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔

فاٹا حکام کے مطابق یہ حملہ کالعدم تحریک طالبان حکیم اللہ محسود گروپ کے ایک تربیتی مرکز پر کیا گیا ہے مگر اس حملے کے نتیجے میں کسی طالبان کمانڈر کی ہلاکت کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

اس سے قبل تین جنوری کو جنوبی اور شمالی وزیرستان میں دو ڈرون حملوں میں طالبان کمانڈر ملا نذیر سمیت نو شدت پسند ہلاک ہوگئے تھے۔

اس حملے میں ان کے علاوہ ایک اور طالبان کمانڈر رتا خان سمیت پانچ دیگر شدت پسند بھی مارے گئے تھے۔ ملا نذیر پر ہونے والا حملہ اس سال کا سب سے پہلا ڈرون حملہ تھا۔

ملا نذیر پر ہونے والے حملے کے علاوہ دوسرا حملہ بھی بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات تین جنوری کو شمالی وزیرستان میں میر علی کے مقام پر ہوا جہاں ڈرون طیارے نے ایک گاڑی کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق اس حملے میں حکیم اللہ محسود گروپ کے کمانڈر فیصل خان اور دو ازبک شدت پسند مارے گئے تھے۔

یہ حملہ حکیم اللہ محسود گروپ کے طالبان پر ہونے والا دوسرا حملہ ہے جس میں آٹھ افراد کی ہلاکت ہوئی۔

فاٹا اور فوجی حکام نے بی بی سی سے بات کر کے اس حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>