
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملے گزشتہ کئی سال سے جاری ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے جمعرات کی صبح ہونے والے ڈرون حملے میں القاعدہ کے نائب سربراہ شیخ خالد بن عبدالرحمان المعروف شیخ ابوزید الکویتی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
میران شاہ سے مقامی طالبان ذرائع نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نہ صرف ہلاکت کی تصدیق کی بلکہ بتایا کہ اس حملے میں ان کے دس ساتھی بھی مارے گئے ہیں۔
حکومتی ذرائع نے تاحال شیخ خالد کی ہلاکت کی اطلاعات کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔
چھیالیس سالہ شیخ ابوزید الکویتی کو ابویحییٰ اللبی کے بعد القاعدہ کا نائب سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔
وہ القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کے بعد تنظیم کے دوسرے اہم ترین رہنما تھے اور اس عہدے پر کام کرنے سے قبل وہ القاعدہ کے شرعی امور کے نگران تھے ۔
طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ شیخ ابوزید پر اس سے قبل بھی حملے ہوئے ہیں لیکن وہ ان میں بچنے میں کامیاب رہے ہیں۔
یہ ڈرون حملہ جمعرات کی صبح شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سے تیرہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک گاؤں مبارک شاہی میں ہوا تھا اور ابتدائی طور پر اس میں تین افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی تھی جن میں سے ایک ازبک بتایا گیا تھا۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملے گزشتہ کئی سال سے جاری ہیں جن میں القاعدہ اور طالبان کے کئی اہم رہنما مارے گئے ہیں۔
ان حملوں میں پاک امریکہ تعلقات کے دوران کمی یا وقتی تعطل آتا ہے تاہم یہ حملے مکمل طور پر کبھی بند نہیں ہوئے۔
گزشتہ سال نومبر میں سلالہ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر نیٹو کے فضائی حملے کے بعد ان ڈرون حملوں میں تعطل آیا تھا تاہم کچھ عرصے کے بعد حملوں کا آغاز دوبارہ ہو گیا۔
پاکستان کی مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتیں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کرتی رہی ہیں۔ حال ہی میں سیاسی جماعت تحریکِ انصاف نے ان حملوں کے خلاف اسلام آباد سے قبائلی علاقہ جات تک ریلی بھی کی تھی۔






























