
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں پانچ شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ حملہ ایجنسی کے دارالحکومت میران شاہ کے مشرق میں ہرمز کے علاقے میں کیا گیا۔
سکیورٹی اہلکاروں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ متعدد ڈرون طیارے اس علاقے میں بدھ کی صبح سے ہی پرواز کر رہے تھے اور انہوں نے ایک مکان پر چار میزائل داغے۔
اہلکار کے مطابق حملے میں مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور اس میں موجود پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ تاحال واضح نہیں کہ ہلاک شدگان مقامی تھے یا غیر ملکی۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملے گزشتہ کئی سال سے جاری ہیں۔ ان حملوں میں پاک امریکہ تعلقات کے دوران کمی یا وقتی تعطل آتا ہے تاہم یہ یہ حملے مکمل طور پر کبھی بند نہیں ہوئے۔
گزشتہ سال نومبر میں سلالہ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر نیٹو کے فضائی حملے کے بعد ان ڈرون حملوں میں تعطل آیا تھا تاہم کچھ عرصے کے بعد حملوں کا آغاز دوبارہ ہو گیا۔
پاکستان کی مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتیں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کرتی رہی ہیں۔ حال ہی میں سیاسی جماعت تحریکِ انصاف نے ان حملوں کے خلاف اسلام آباد سے قبائلی علاقہ جات تک ریلی بھی کی تھی۔
واضح رہے کہ پاکستان ڈرون حملوں کی مخالفت کرتا ہے اور اسے اپنی خود مختاری پر حملہ قرار دیتا ہے۔
گزشتہ ماہ دورۂ امریکہ کے دوران پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈرون حملوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان ڈرون حملوں کے دہشت گردوں کو ختم کرنے کے مقصد سے تو متفق ہے لیکن اس کے طریقۂ کار سے اتفاق نہیں کرتا۔
ان کے اس بیان کے بعد رواں ماہ کے آغاز میں امریکی ریڈیو این پی آر کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ گذشتہ آٹھ سال سے پاکستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملوں کو فوجی صدر جنرل پرویز مشرف سے لیکر صرف چھ ماہ قبل تک موجودہ حکومت کی بھی تائيد حاصل رہی ہے۔
ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت سے پاکستانی حکومت کی ڈرون حملوں پر ناراضي صرف پاکستان میں اسامہ بن لادن کے ہلاکت کے بعد دیکھنے میں آئي ہے۔






























