
حنا ربانی کھر نیویارک میں ایشیاء سوسائٹی کے ممبران سے خطاب کر رہی تھیں
پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈرون حملوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ڈرون حملوں کے دہشت گردوں کو ختم کرنے کے مقصد سے تو متفق ہے لیکن اس کے طریقہ کار سے اتفاق نہیں کرتا۔
نیویارک میں ایشیاء سوسائٹی کے ایک اجلاس میں جمعرات کو خطاب کرتے ہوئے حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈرون حملوں کا منفی رد عمل ہو رہا ہے اور وہ سود مند ثابت نہیں ہو رہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عوام کی اکثریت سی آئی اے کے ڈرون حملوں کی شدید مخالف ہے۔
ایشیا سوسائٹی کے اجلاس میں حنا ربانی کھر کا خطاب سننے کے لیے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ حنا ربانی کھر نے اس خطاب میں ڈرون حملوں، افغانستان سے تعلقات کے علاوہ کشمیر کا بھی ذکر کیا اور اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت حل کرنے کی بات کی۔
ڈرون حملوں پر تفصیل سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ڈرون حملوں کے ذریعے دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے امریکہ کے مقصد سے تو متفق ہے لیکن یہ حکمت عملی درست نہیں ہے۔
فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق حنا ربانی کھر نے کہا ’ ڈرون حملوں سے جو حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہم اس سے اختلاف نہیں کرسکتے اور ہم اختلاف نہیں کرتے اگر وہ دہشت گردوں کے خلاف ہوں۔ لیکن ہمیں اس کے لیے قانونی طریقے ڈھونڈنے ہوں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر یک طرفہ ڈرون حملے غیر قانونی ہیں۔
حنا ربانی کھر سے جب پوچھا گیا کہ پاکستان میں امریکہ کے خلاف اتنی نفرت کیوں پائی جاتی ہے تو انہوں نے جواباً صرف ایک لفظ کہا ’ڈرون۔‘
حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان کو مسلح شدت پسندوں کو ختم کرنے کے لیے عوامی رائے عامہ کو ہموار کرنا ہے اور عوامی حمایت حاصل کرنا ہے لیکن ایسا اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک اس جنگ کو امریکہ کی جنگ تصور کیا جاتا رہے گا۔
انہوں نے کہا ’جب پاکستان کی فضاوں میں ڈرون اڑتے ہیں یہ امریکہ کی جنگ بن جاتی ہے۔ یہ تمام دلیل کہ یہ ہماری جنگ ہے اور ہمارے مفاد میں ہے ایک طرف رہ جاتی ہے اور یہ ہم پر مسلط کی گئی جنگ بن جاتی ہے۔‘
"جب پاکستان کی فضاوں میں ڈرون اڑتے ہیں یہ امریکہ کی جنگ بن جاتی ہے۔ یہ تمام دلیل کہ یہ ہماری جنگ ہے اور ہمارے مفاد میں ہے ایک طرف رہ جاتی ہے اور یہ ہم پر مسلط کی گئی جنگ بن جاتی ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی لڑائیاں ہیں۔ آپ ایک دہشت گرد مار لیتے ہیں یا دو مار لیتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آپ جنگ جیت رہے ہیں؟"
حنا ربانی کھر
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مخالفت سے قطع نظر یہ لڑائی کو جنگ کی قیمت پر جتینے کا مسئلہ ہے۔ ’یہ چھوٹی چھوٹی لڑائیاں ہیں۔ آپ ایک دہشت گرد مار لیتے ہیں یا دو مار لیتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آپ جنگ جیت رہے ہیں؟‘
انہوں نے ایک عرصے سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان کشیدہ تعلقات کے بارے میں امید ظاہر کی اور کہا کہ دونوں ملک اب معاملات کو حل کرنے کے زیادہ قریب ہیں۔
حنا ربانی کھر نے امریکہ کے منتخب نمائندوں کی طرف سے اکثر ظاہر کیے جانے والے ان خدشات کو رد کر دیا کہ پاکستان امریکہ کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
پاکستان کی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلامی شدت پسندی کی بہت سی وجوہات ہیں اور پاکستان کی سرزمین پر شدت پسندوں کی موجودگی کا واحد ذمہ دار پاکستان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا کہ ہم سب اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں اور یہ کہیں کہ ہم نے ماضی میں غلطیاں کی ہیں۔
انہوں نے کہا ’جب سویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تو آپ کے ملک نے میرے ملک کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کو مسلح کرنے کا فیصلہ کیا اور اس وقت ہم انہیں مجاہدین کہتے تھے۔ اور اس کے بعد آپ کا ملک ہاتھ جھاڑ کر پیچھے ہٹ گیا۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ کسی کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتے۔






























