
شاہ زیب کو 25 دسمبر کو کراچی کے ڈیفنس کے علاقے میں گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا تھا
پاکستان کے چیف جسٹس محمد افتخار چودھری نے کراچی میں طالب علم شاہ زیب خان کے قتل پر از خود نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے کی انکوائری رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
چیف جسٹس نے منگل کو سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل اور صوبائی پولیس چیف کو عدالت میں چار جنوری کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل اور صوبائی پولیس چیف کو حکم دیا ہے کہ وہ کیس کی رپورٹ اور تفتیش کے بارے میں آگاہ کریں۔
یاد رہے کہ بیس سالہ شاہ زیب کی ہلاکت کو ایک ہفتہ ہو گیا ہے لیکن ابھی تک پولیس کو تفتیش میں کوئی خاص پیش رفت حاصل نہیں ہو سکی۔
شاہ زیب کو 25 دسمبر کو کراچی کے ڈیفنس کے علاقے میں گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔
سندھ پولیس نے قتل کی تفتیش کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ تاہم کمیٹی نے ابھی تک کسی کو حراست میں نہیں لیا۔
شاہ زیب کی ہلاکت کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹس ٹوئٹر اور فیس بک پر اس قتل کی مذمت کے لیے مہم کا آغاز ہوا۔ اس کے علاوہ کراچی پریس کلب کے باہر بھی احجاج کیے گئے۔






























