
اس واقعے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی
کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور جماعت اہلسنت والجماعت کے رہنما مولانا اورنگزیب فاروقی سمیت چھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
کراچی پولیس کے ترجمان عمران شوکت نے بی بی سی کو بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ موتی محل کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے مولانا فاروقی اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کی گاڑیوں پر فائرنگ کر دی۔
ترجمان کے مطابق فائرنگ سے پولیس موبائل میں سوار ایک اے ایس آئی ہلاک اور تین اہلکار زخمی ہوگئے۔
اہلسنت و الجماعت کے ترجمان کے مطابق فائرنگ سے مولانا اورنگزیب بھی زخمی ہوئے تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ زخمی ہونے والے دیگر افراد میں مولانا فاروقی کا ڈرائیور اور ایک راہ گیر بھی شامل ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس واقعے کے بعد گلشنِ اقبال سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی اور تنظیم اہلِ سنت و الجماعت کے کارکنوں نے سڑکوں پر آ کر احتجاج کیا ہے۔
کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ ہنگامہ آرائی کا واقعہ صرف رضویہ کے علاقے میں پیش آیا ہے جہاں ایک بس نذرِ آتش کی گئی ہے۔
تنظیم اہلِ سنت و الجماعت نے اپنے رہنما پر فائرنگ کے خلاف بدھ کو شہر میں ہڑتال کی کال بھی دی ہے۔
کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کافی عرصے سے جاری ہیں اور اس میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
انسانی حقوق کے لیے سرگرم ادارے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق کراچی میں رواں برس کے ابتدائی پانچ ماہ میں ساڑھے سات سو افراد قتل کیےگئے اور قتل ہونے والوں میں زیادہ تر افراد ایسے ہیں جنہیں لسانی، گروہی، سیاسی یا فرقہ وارانہ بنیاد پر ہدف بنا کر ہلاک کیا گیا۔






























