
پاکستان اور افغانستان کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف سرحدی تنازعات ہوئے ہیں جن میں سرحد کے دونوں اطراف فائرنگ اور دراندازی کے واقعات بھی شامل ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر انتیس پاکستانی مزدوروں کے ساتھ افغان سکیورٹی فورسز نے بدسلوکی کی اور انہیں مارا پیٹا جس پر دفتر خارجہ نے افغان حکومت سے سخت احتجاج کیا ہے
اس واقعے کے بعد کچھ دیر کے لیے طورخم کی افغان پاکستان سرحد بند کر دی گئی جسے اب کھول دیا گیا ہے۔
دفتر خارجہ نے افغان ناظم الامور کو صبح دفتر خارجہ طلب کر کے ان سے شدید احتجاج کیا اور کابل میں پاکستانی سفیر نے بھی حکومت پاکستان کی جانب سے ایسے ہی احتجاج ریکارڈ کروایا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ ان تمام پاکستانیوں کے پاس درست سفری دستاویزات تھیں جس کے باوجود ان سے بد سلوکی کی گئی۔
پاکستان نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے اس میں ملوث اہلکاروں کو سزا دی جائے اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جائے۔
کابل میں افغان وزارت خارجہ کے دفتر کے ایک اہلکار نے بی بی سی سے بات کر تے ہوئے بتایا کہ اس بارے میں ان کا دفتر تفصیلات کا منتظر ہے اور جب تفصیلات ملیں گی تو اس پر رد عمل دیا جائے گا۔
سنیچر کو دفتر بند ہونے کی وجہ سے افغان وزارت خارجہ کے ترجمان موجود نہیں تھے اسی طرح اسلام آباد میں بھی افغان سفارت خانے سے رابطے کی کوشش کی گئی مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔






























