
افغان حکام پاکستانی فوج پر طالبان کی پشت پناہی کا الزام لگاتے رہے ہیں
حالیہ ہفتوں میں پاکستانی فوج کی پالیسی میں ڈرامائی تبدیلی آئی ہے۔
ایک عشرے تک طالبان کو افغانستان میں بغاوت جاری رکھنے کے لیے محفوظ ٹھکانے اور آزادی فراہم کرنے کے بعد اب وہ طالبان، افغان حکومت اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کروانے کے لیے سرگرم ہے۔
اگر پاکستان کی پالیسی میں یہ تبدیلی برقرار رہے تو اس سے امن کے عمل میں کئی نئے راستے کھل سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے باعث طالبان کے ساتھ جنگ بندی، علاقے میں وسیع تر امن اور پاکستان کے امریکہ کے ساتھ کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جنگ بندی اور امن مذاکرات سے نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کی کمزور حکومت اور فوج کو پنپنے کا موقع مل جائے گا۔
نئے تعلقات کی علامت کے طور پر ایک نہیں بلکہ کئی سینیئر افغان حکام نے نجی گفتگو میں پاکستانی فوج اور فوجی سربراہ جنرل اشفاق کیانی کی یہ کہہ کر تعریف کی ہے کہ انھوں نے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مفاہمت کروانے کے لیے واضح اقدامات کیے ہیں۔
اس کے برعکس صدر حامد کرزئی اور دوسرے حکام برسوں تک پاکستانی فوج اور خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر طالبان کی پشت پناہی کا الزام لگاتے رہے ہیں۔
صدر کرزئی کے ایک سینیئر مشیر نے کہا، ’ہم اب سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے اور جنرل کیانی افغانستان میں امن لانے کے لیے کلی طور پر مخلص ہیں۔‘
"ہم اب سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے اور جنرل کیانی افغانستان میں امن لانے کے لیے کلی طور پر مخلص ہیں۔"
افعان عہدے دار
نومبر کے وسط میں پاکستان نے نو طالبان عہدے داروں کو رہا کر کے افغان امن کونسل کے حوالے کر دیا تھا جو طالبان کے ساتھ مذاکرات کا راستہ کھولنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ پاکستان نے تین دسمبر کو کہا تھا کہ وہ مزید طالبان قیدیوں کو رہا کرے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کے قبضے میں کم از کم ایک سو طالبان رہنما اور عسکریت پسند موجود ہیں، لیکن توقع ہے کہ ان سب کو رہا کر دیا جائے گا۔
پاکستانی فوج کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ رہا شدہ طالبان کو نقل و حرکت کی مکمل آزادی ہو گی۔ پاکستان نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر افغان کونسل کسی تیسرے ملک میں مذاکرات کروانا چاہے تو اسے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
اگر ان ابتدائی اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہوئے تو پھر بعد میں ایک اور فیصلہ کن قدم اٹھایا جا سکتا ہے جس کے تحت آئی ایس آئی افغانستان میں افغان اور مغربی افواج سے لڑنے والے سینکڑوں طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ مفاہمانہ مذاکرات پر مائل کرنے کی کوشش کرے گی۔
سینیئر افغان، پاکستانی اور مغربی حکام کے مطابق افغان اور پاکستان حکومتوں نے مستقبل میں ہونے والے امن مذاکرات کے لیے لائحۂ عمل تیار کر لیا ہے۔ افغان حکومت نے پاکستان اور امریکہ کے سامنے اپنا روڈمیپ رکھ دیا ہے، البتہ پاکستان امریکہ کا روڈمیپ ظاہر ہونے کے بعد اپنا روڈمیپ پیش کرے گا۔
جنرل کیانی اب افغان حکام پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنے روڈ میپ کے مطابق 2014 میں نیٹو فوج کے انخلا کا انتظار کرنے کی بجائے اگلے برس کے اوائل تک ہی معاہدہ کر لیں۔
تاہم جمعرات کے دن ایک افغان خودکش حملہ آور کے ہاتھوں افغان انٹیلیجنس کے سربراہ کے زخمی ہونے کے واقعے کے بعد اس امن عمل کو دھچکا لگے گا کیوں کہ اس کے بدلے میں جوابی حملہ ہو سکتا ہے۔
اسی دوران امریکی، پاکستانی اور افغان حکام پر مبنی ایک سہ رکنی کمیشن جو پہلے بہت سست روی سے پیش رفت کر رہا تھا، یک دم بہت فعال ہو گیا ہے اور اب اس نے مذاکرات کے لیے آنے والے طالبان کے لیے محفوظ گزرگاہوں، اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی دہشت گردوں کی فہرست سے بعض طالبان کے نام ہٹوانے کی باتیں شروع کر دیں ہیں۔

جنرل اشفاق افغانستان میں امن لانے کے لیے کوشاں ہیں
امریکہ اور پاکستان کے تعلقات بڑی حد تک افغانستان کے مسئلے پر کھنچاؤ کا شکار تھے، لیکن اب وہ بھی بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ جنرل کیانی نے حال ہی میں امریکی وزیرِ دفاع ہلیری کلنٹن اور افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی ہے۔ تاہم امریکی حکام پاکستان فوج کی نیت کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور انتظار کر رہے ہیں کہ وہ مزید کیا کرتے ہیں۔
اسی دوران امریکی حکومت ایک اندرونی پالیسی دستاویز پر عمل کر رہی ہے جس میں پہلی بار 2014 میں امریکی فوج کے انخلا کو مفاہمت کے عمل سے منسلک کیا گیا ہے۔ 2011 میں امریکہ نے طالبان کے ساتھ قطر میں خفیہ طور پر ملاقاتیں شروع کیں، لیکن طالبان مارچ میں یہ کہہ کر اس عمل سے علیٰحدہ ہو گئے تھے کہ امریکہ بار بار موقف تبدیل کرتا ہے۔
اُس وقت امریکی فوج اور سی آئی اے مذاکرات کے خلاف تھے۔ لیکن نئی امریکی پالیسی دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ فی الوقت امریکہ میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے زیادہ اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔
اب تک پاکستانی فوج ان اقدامات کو ’تبدیلی‘ کہنے سے متنفر ہے، کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ ماضی میں طالبان کی حمایت کرتی رہی ہے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ وہ کئی برسوں سے مفاہمت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں پاکستانی فوج نے مفاہمت کروانے کے لیے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا۔ پاکستان کی سویلین حکومت کا افغان پالیسی میں عمل دخل بہت کم ہے۔
پاکستان کی سمت میں تبدیلی کی وجہ امنِ عامہ کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال اور معاشی مسائل ہیں۔ پاکستان کو پاکستانی طالبان کی طرف سے دہشت گردی اور کراچی میں بڑھتے ہوئے نسلی اور فرقہ وارانہ تشدد کا سامنا ہے۔
فوج پاکستانی طالبان سے لڑ کر بھاری جانی نقصان اٹھا چکی ہے اور اب وہ مزید جنگوں میں نہیں الجھنا چاہتی۔ جنرل کیانی کو امید ہے کہ افغانستان میں مفاہمت سے پاکستانی طالبان پر مثبت پڑے گا اور وہ اپنے جواز اور نئی بھرتیوں سے محروم ہو جائیں گے۔
پاکستان نے بہت عرصہ طالبان کی سرپرستی کی ہے جس کی اسے بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑی ہے۔ تاہم اب تمام فریقوں کو اندازہ ہو رہا ہے کہ اب مفاہمت کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
اس کے لیے امریکہ کو اس خطے کے لیے ایک مضبوط سفارت کار تعینات کرنا پڑے گا جو امن عمل کو سرگرمی سے آگے بڑھا سکے۔ اس کے علاوہ صدر اوباما کو اس عمل میں ذاتی طور پر شامل ہونا ہو گا، جس سے وہ اب تک پہلوتہی کرتے رہے ہیں۔
ان سب سے بڑھ کر 34 برس سے برسرِ پیکار افغان عوام کو یہ دکھانا ہو گا کہ وہ اپنی جنگوں کا پرامن حل چاہتے ہیں۔






























