کالا باغ کی تعمیر: عدالت کا پیپلز پارٹی کو ’تحفہ‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 1 دسمبر 2012 ,‭ 13:00 GMT 18:00 PST

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے نے سندھی قوم پرستوں کے مسلم لیگ نون کی جانب بڑھتے ہوئے قدموں کو روک دیا ہے

پاکستان اور خاص طور پر صوبہ سندھ میں ایک بار پھر سیاست کا رخ تبدیل ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ اس بار تبدیلی کی ہوا لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد چلی ہے جس میں عدالت نے حکم جاری کیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں کی روشنی میں متنازع کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی جائے۔

مشترکہ مفادات کونسل کے جن دو فیصلوں کا عدالت نے حوالہ دیا ہے اس وقت مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کی حکومت تھی جنہوں نے ان دنوں سندھ میں حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کو ’ٹف ٹائم‘ دینے کے لیے قوم پرستوں سے دوستی قائم کر رکھی ہوئی ہے۔

کالاباغ ڈیم پر سندھ میں گزشتہ تین دہائیوں سے شدید رد عمل پایا جاتا ہے۔ میاں نواز شریف قوم پرستوں پر یہ کئی بار واضح کرچکے ہیں کہ چاروں صوبوں کی رضامندی کے بغیر اس ڈیم کی تعمیر نہیں ہوسکتی جو اس سے پہلے پیپلز پارٹی کا موقف رہا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے فوری بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شھباز شریف نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کو ملکی معشیت کے لیے ناگزیر قرار دیا جس نے قوم پرستوں کے رائیونڈ کی جانب بڑھتے ہوئے قدموں کو روک لیا ہے۔

یہ بھی اتفاق ہوا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے دوسرے روز سندھ میں بلدیاتی نظام کے خلاف قوم پرست جماعتوں نے ہڑتال کا اعلان کر رکھا تھا جس کی مسلم لیگ ن نے بھی حمایت کی تھی۔

سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کے آخری ایام میں کالا باغ ڈیم کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی اور سکیورٹی حصار میں جلسے کرکے لوگوں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ سندھ کے لوگوں کو گارنٹی دینے کے لیے تیار ہیں ان کی حق تلفی نہیں ہوگی۔

جنرل پرویز مشرف نے بھی پیپلز پارٹی اور قوم پرستوں کو ساتھ رہنے کا موقع فراہم کیا اور کشمور سے لیکر کراچی تک عوامی مینڈیٹ اور عوام کے جذبات کا مینڈیٹ سڑکوں پر ساتھ نظر آیا۔

بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت اور ہمدری میں بے پناہ اضافہ ہوتاگیا لیکن بعد میں متحدہ قومی موومنٹ کو حکومت میں شامل رکھنے پر قوم پرستوں کا اعتراض سامنے آیا۔

ان مشکل دنوں میں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے ایک نعمت بن کر سامنے آیا ہے جس نے لاہور اور قوم پرستوں کے درمیان ایک بار پھر دیوار کھڑی کردی ہے۔ عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو اس فیصلے کو پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے بیل آؤٹ پیکیج قرار دیتے ہیں۔

"اب مسلم لیگ ن کو اپنے قول اور فعل کو درست کرنا ہوگا کیونکہ میاں نواز شریف اس کی مخالف کرتے رہے ہیں جبکہ شھباز شریف اور رانا ثنااللہ اس کی حمایت کر رہے ہیں"

ایاز لطیف پلیج ،عوامی تحریک کے سربرا

ایاز پلیجو کے مطابق لاہور کی اسی عدالت نے یہ تحفہ دیا ہے جس نے مولوی مشتاق کی سربراہی میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ صادر کیا تھا، ’اب مسلم لیگ ن کو اپنے قول اور فعل کو درست کرنا ہوگا، کیونکہ میاں نواز شریف اس کی مخالف کرتے رہے ہیں جبکہ شہباز شریف اور رانا ثنااللہ اس کی حمایت کر رہے ہیں۔‘

سندھ میں کالا باغ ڈیم کو زندگی اور موت کا مسئلہ قرار دیا جاتا رہا ہے، اس کی ایک وجہ صوبے کے لوگوں کی اکثریت کا زرعی معیشت پر دارو مدار بھی ہے ۔

سندھ کے سیاست دانوں اور ماہرین کی یہ رائے رہی ہے کہ سسٹم میں اتنا پانی موجود ہی نہیں ہے کہ ڈیم بنایا جائے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں بنائی گئی فنی کمیٹی بھی کالا باغ ڈیم منصوبے کو فنی بنیادوں پر مسترد کرچکی ہے۔

سندھ میں پیپلز پارٹی اگلے مورچوں پر آگئی ہے جہاں صوبائی وزراء شدید رد عمل کا اظہار کر رہے ہیں اور ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے لے کر موجودہ حکومت کے خلاف عدالتی فیصلوں کے حوالے دے کر لوگوں کی ہمدردی حاصل کر رہے ہیں۔ سندھ اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں کالا باغ ڈیم کے خلاف ایک اور قرار داد پیش کرنے کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے جس کی متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے بھی حمایت کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>