
پاکستان کی لاہور ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت مشترکہ مفادات کونسل کی سفارش پر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی پابند ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ فیصلہ کالا باغ کی تعمیر کے حوالے سے دائر کی گئی چھ درخواستوں پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 1991 میں مشترکہ مفادات کونسل نے سفارش کی تھی کہ کالا باغ ڈیم تعمیر کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 154 کے تحت وفاقی حکومت مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات پر عملدرآمد کرنے کی پابند ہے۔
کالا باغ کی تعمیر کے حوالے سے چھ درخواستیں لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھیں۔
ایک درخواست گزار ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو توانائی بحران کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل نے 1984 اور 2004 میں بھی کالا باغ ڈیم بنانے کی سفارش کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس حوالے سے کوئی اقدام نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اس پر عملدرآمد نہیں کرسکتی تو یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لے کر جائے۔






























