
فوجی گاڑی سکول کے بچوں کو لینے شہباز ٹاؤن جا رہی تھی جب وہ دھماکے کی زد میں آگئی
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور خاتون سمیت بائیس زخمی ہوگئے ہیں۔
فوجی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔
یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب ایک فوجی گاڑی سکول کے بچوں کو لینے شہباز ٹاؤن سے چھاؤنی کی طرف جا رہی تھی۔
سکول کی گاڑی کے ساتھ حفاظت کے لیے تعینات فوجیوں کی گاڑی کو موٹر سائیکل پر نصب ریمورٹ کنٹرول بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کوئٹہ لیجایا گیا جن میں سے ایک خاتون سمیت آٹھ افراد کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔
سی سی پی او کوئٹہ نے اس دھماکے کو دہشتگردی کا واقع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکے کے بعد محرم الحرام کے سلسلے میں سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کر دیا جائے گا۔
ڈی آئی جی آپریشنز کوئٹہ وزیر خان ناصر نے جائے وقوعہ پر بی بی سی کو بتایا کہ اس دھماکے میں استعمال ہونے والا بم بم دیسی ساخت کا تھا جس میں پندرہ کلو کے قریب دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا جسے ایک موٹر سائیکل پر نصب کیا گیا تھا۔
اس دھماکے کے نتیجے میں آس پاس کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔
دھماکے کی جگہ سے ایک اور بم بھی برآمد ہوا جسے بم ڈسپوزل سکواڈ نے ناکارہ بنا دیا۔
بظاہر اس حملے کا نشانہ فوجیوں کی گاڑی تھی کیونکہ یہ دھماکہ سکیورٹی فورسز کی گاڑی کی آمد کے ساتھ ہی کیا گیا۔
اس دھماکے کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی جبکہ اس کے علاوہ چھ گاڑیوں اور آٹھ موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا۔
دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز کوئٹہ شہر میں دور دور تک سنی گئی۔






























