سمندر پار پاکستانی: ووٹنگ کا طریقہ کار زیرِ غور

آخری وقت اشاعت:  منگل 6 نومبر 2012 ,‭ 10:52 GMT 15:52 PST

الیکشن کمیشن آف پاکستان، عدالت عظمیٰ کی ہدایت پر امریکہ میں رائج غائبانہ ووٹنگ کے طریقہ کار کا مطالعہ کر رہا ہے

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے حال ہی میں تحریک انصاف کی جانب سے دائر کردہ ایک درخواست پر سمندر پار پاکستانیوں کو بیرون ملک رہتے ہوئے انتخابات میں حق رائے دہی کے استعمال کے طریقہ کار طے کرنے کی بات کی، جس کے لئے ’پوسٹل بیلٹ‘ کو آسان طریقہ قرار دیا گیا ہے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی تعداد تقریباً نوے لاکھ ہے جن میں سے سینتیس لاکھ کے پاس ’نائی کوپ‘ یعنی قومی شناختی کارڈ برائے سمندر پار پاکستانی موجود ہے۔ اس کارڈ کے تحت انہیں ووٹ کا حق حاصل ہے مگر کوئی واضح طریقہ کار نہ ہونے کی وجہ سے ووٹ دینے سے رہ جاتے ہیں۔

تحریک انصاف کے بین الاقوامی شاخ کے سیکریٹری ہمایوں مہمند کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت سمجھتی ہے کہ سمندر پار پاکستانی ملک کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں اور وہی ملک دوبارہ تعمیر کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے لئے بیرون ملک رہتے ہوئے ہی ووٹ ڈالنے کا طریقہ کار واضح ہونا چاہیے۔

ہمایوں مہمند سمجھتےہیں کہ اسی فیصد سمندر پار پاکستانی تحریک انصاف کی طرف مائل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں دو قوانین انیس سو چہتر کے پیپلز رپریزینٹیشن ایکٹ اور انیس سو چوہتر کے الیکٹورل رول ایکٹ میں ترامیم کی ضرورت ہے جو پارلیمنٹ کا کام ہےمگر انہیں آئندہ انتخابات سے پہلے ایسا ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ پارلیمان میں ایسے لوگ بیٹھے ہیں جو تبدیلی نہیں چاہتے۔

دوسری طرف حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ اس سلسلے میں ایک پرائیوٹ بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے جارہی ہے۔ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی ڈاکٹر فاروق ستار کا موقف ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ملک کی آبادی کا چار سے پانچ فیصد ہیں جو قومی خزانے کو چودہ ارب ڈالر کی مالی ترسیلات دیتے ہیں، اور انہیں ملکی سیاست میں اپنا کردار ادا نہ کرنے دینا منفی ہوگا۔

وفاقی وزیر کے مطابق سمندر پار پاکستانیوں کو حق رائے دہی تو حاصل ہے مگر طریقہ کار نہ ہونا رکاوٹ ہے۔ فاروق ستار نے بتایا کہ اب وہ انیس سو چہتر کے پیپلز رپزینٹیشن ایکٹ کی شق انتیس میں ترمیم کر رہے ہیں جس کے بعد پوسٹل بیلٹ کو طریقہ کار بنانے پر کام ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ قانون میں ایسی ترمیم کی جائے گی کہ ڈاک خانے کے ساتھ کورئیر سروس بھی شامل کی جائے۔

لیکن کیا آئندہ انتخابات سے پہلے کوئی طریقہ کار بنانا ممکن ہے؟ ڈاکٹر فارق ستار کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو شیڈول بنانا ہوگا کہ انتخابات سے پہلے ملک سے باہر مقیم نوے لاکھ پاکستانیوں کے ووٹ آجائیں، یا پھر بیرون ملک ووٹ کی سہولت کم از کم ان سینتیس لاکھ افراد کو ضرور ہونی چاہیے جن کے پاس نائی کوپ ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان، عدالت عظمیٰ کی ہدایت پر امریکہ میں رائج غائبانہ ووٹنگ کے طریقہ کار کا مطالعہ کر رہا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت ووٹر اپنے آبائی علاقے میں اپنا اندراج کرتے ہیں اور ہر سال پوسٹل بیلٹ کی درخواست کرتا ہے جس کے بعد اس کا نام اس فہرست میں شامل ہو جاتا ہے جنہیں بیلٹ پیپر بھیجا جاتا ہے۔ ووٹر بیلٹ پیپرپر ووٹ کاسٹ کرکے اسے ڈاک سے یا پھر ای میل کے ذریعے واپس بھیج دیتا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ایڈیشنل سیکریٹری محمد افضل کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نےعدالت کے حکم پر پوسٹل بیلٹ کے لیے قانون وزارت قانون کو بھیج دیا ہے، اس پر فوری عملدآمد کے لیے سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے ہونا ضروری ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>