
سپریم کورٹ کے کہنے کے باوجود نہ تو صوبے کے سیریٹری داخلہ آئے نہ ہی امن و امن پر رپورٹ پیس کی
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس،جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ہر بااختیار آئین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
پاکستان کے نجی زرائع ابلاغ کے مطابق یہ ریماکس انہوں نے بلوچستان امن و امان اور حقوق انسانی کی خلاف وزیوں کے بارے درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔
سپریم کورٹ نے دو نومبر تک وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت جمعہ دو نومبر تک ملتوی کردی ہے۔
بدھ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس خلیجی عارف حسین اور جسٹس جواد ایس خواجہ پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے بلوچستان بار ایسوسی ایشن کی طرف سے بلوچستان بدامنی کے حوالے سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو امن و امان پر رپورٹ کے ساتھ پیش نہ ہونے پر بدمزگی کا اظہار کیا اور سیکرٹری داخلہ کے ایم صدیق کو تیس منٹ کے اندر عدالت میں حاضر ہونے کے لیے کہا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’بلوچستان سنجیدہ معاملہ ہے اور متنبہ کیا کہ اس بارے میں غیر ذمہ داری اختیار نہ کی جائے۔
عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ سیکرٹری داخلہ اور رپورٹ کے ساتھ حاضر ہوں۔
اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل اس سلسلے میں دلائل پیش کرنا چاہتے ہیں، جس کے جواب میں چیف جسٹس نے کہا کہ بینچ نے رپورٹ طلب کی ہے، دلائل اس کے بعد سنے جائیں گے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’بلوچستان میں ہر بااختیار آئین کی خلاف ورزی کر رہا ہے‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر صوبے میں آئین پر ہی عمل نہیں ہو رہا تو پھر صوبے میں حکومت کس اختیار کے تحت چلائی جا رہی ہے‘۔
عدالت نے ایک بار پھر امن و امن کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کے ساتھ سماعت دو نومبر تک ملتوی کردی۔






























