
اختر مینگل نے کہا کہ جنگی حالات میں انتخابات نہیں ہوتے اور بلوچستان دو ہزاد دو سے حالتِ جنگ میں ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے بلوچستان کے حالات پر سماعت کرنا ایک مثبت عمل ہے کیونکہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ بلوچ لوگوں کا موقف سنا گیا ہے۔
بی بی سی اردو سروس کے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستانی ریاست کے کسی ادارے نے بلوچستان پر توجہ دی نا ہی بلوچوں کے موقف کو سنا گیا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سپریم کورٹ نے پہل کی اور لوگوں کی بات کو سنا گیا ہے۔
کلِک بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل کا انٹرویو سنئیے
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لاپتہ افراد کا معاملہ پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ’جب سپریم کورٹ نے اِس معاملے پر سماعت شروع کی تو ہم نے بھی کہا کہ ہمیں بھی اِس میں ایک فریق کے طور پر بلایا جائے۔‘
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے ماضی میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ موجودہ سپریم کورٹ نے یہ جو پہل کی ہے اسے وہ مثبت سمجھتے ہیں کیوں کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ لاپتہ افراد کے بارے میں لوگوں کی بات کو سنا گیا ہے۔ ’اِس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے یہ ابھی ہمیں نہیں پتا کیونکہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرنا اداروں کا کام ہے، صاحب اقتدار لوگوں کا کام ہے۔
اختر مینگل نے کہا کہ ’سپریم کورٹ میں ہم نے بلوچستان کی مجموعی صورتحال پر بات کی۔ حالات کی بہتری کے لیے اپنے چھ نکات پر بات کی۔ جن میں لاپتہ افراد، مسخ شدہ لاشوں کا ملنا اور اِس میں ملوث وردی اور بے وردی لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا شامل ہیں۔
اختر مینگل نے کہا کہ اگلے انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ اُن کی جماعت کی سینٹرل کمیٹی کرے گی۔ ’ہماری جماعت پارلیمانی سیاست سے دستبردار نہیں ہوئی ہے لیکن میرے نزدیک اِس وقت ترجیح انتخابات نہیں بلکہ بلوچستان ہے جہاں ہر گھر میں ماتم ہو رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ جنگی حالات میں انتخابات نہیں ہوتے اور بلوچستان دو ہزاد دو سے حالتِ جنگ میں ہے۔






























