طالبان حملے پر سیاسی جماعتوں کی مصلحتیں

آخری وقت اشاعت:  منگل 9 اکتوبر 2012 ,‭ 17:18 GMT 22:18 PST

چودہ برس کی ملالہ یوسف زئی پر طالبان کے حملے پر پاکستان کی کم و بیش تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے مذمتی بیان سامنے آئے ہیں لیکن چند ہی سیاسی جماعتیں ایسی ہیں جنہوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کھل کر کوئی بات کہی ہو۔

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے جو اپنے نظریات اور سیاسی سوچ کی بنا پر شروع ہی سے تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند تنظمیوں کے نشانے پر رہی ہے سب سے شدید الفاظ میں اس حملے کی مذمت کی۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات میاں افتخار نے جن کا بیٹا بھی دہشت گردی کا شکار ہوا اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کی اور شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو صاف کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

پارٹی کی خاتون رہنما بشریٰ گوہر نے بھی بڑے شدید الفاظ میں اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وقت آ گیا ہے کہ ملک کے اندر طالبان اور شدت پسند تنظیموں کی تربیت گاہوں اور محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا جائے۔

پارٹی کے ایک اور رہنما بشیر احمد بلور نے کہا کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو ایک بچی پر حملہ کر کے ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ نے بھی اس حملے کی فوری طور پر اور شدید الفاظ میں مذمت کی۔

پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتیں اس حملے پر سیاسی مصلحتوں کا شکار نظر آئیں اور حیرت انگیز طور پر بعض سیاسی جماعتیں کو اس دل ہلا دینے والے واقع پر اپنا رد عمل دینے میں پورا دن لگ گیا۔

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی طرف سے جو بیانات سامنے آئے ان میں شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے لفظ استعمال کیے گئے اور ان کی مذمت کی گئی۔

اسلام آباد میں بی بی سی اردو سروس نے جب رات گئے پاکستان تحریک انصاف کے دفتر سے رابطہ قائم کیا تو جواب ملا کہ وہ اس واقع پر اپنا بیان جاری کرنے والے ہیں۔ تحریک انصاف کی طرف سے بیان رات دس بجے کے قریب جاری کیا گیا جب اس واقعے کو گزرے ہوئے سات آٹھ گھنٹے گزر چکے تھے۔

اس بیان میں طالبان کی طرف سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے یا ان کے خلاف کوئی اقدام کرنے کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

جماعت اسلامی سے رابطہ کرنے پر پتہ چلا کہ امیر جماعت اسلامی منور حسن نے ایک دو نجی ٹی وی چینلز پر اس واقع کی مذمت کر دی ہے اور ملالہ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔جماعت اسلامی کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں بھی طالبان کا ذکر نہیں کیا گیا۔

پاکستان کی حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت اور پنجاب میں حکمران پاکستان مسلم لیگ ن کی طرف سے بیان واقعے کے چند گھنٹوں بعد ہی جاری کر دیا گیا تھا لیکن اس بیان میں طالبان کا لفظ شامل نہیں تھا۔

لاہور سے جاری ہونے والے بیان میں شہباز شریف کی طرف سے یہ تو کہا گیا کہ اس حملے کے پیچھے جو عناصر ہیں وہ ملک میں انارکی پھیلانا چاہتے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے لیکن انہوں نے اس بیان میں طالبان کی جگہ حملہ آوروں کا لفظ استعمال کرنے کو مناسب جانا۔

نواز شریف کی طرف سے اس بیان میں کہا گیا کہ ’ایسے حملے کرنے والے مسلمان تو کیا انسان کہلوانے کے بھی حقدار نہیں۔‘

اس بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ ایسے حملے کرنے والے عناصر ملک کو انارکی کی اور لاقانونیت کی طرف دھکیلانا چاہتے ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔

سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ فضل کریم نے ملالہ یوسف زئی پر حملے کی شدید مذمت کی اور انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل پر کہا کہ جو بھی امن کے لیے کام کرے گا ان کی جماعت اس کی حمایت جاری رکھے گی۔

یاد رہے کہ اخباری اطلاعات کے مطابق طالبان نے دھمکی دی ہے کہ اگر ملالہ اس حملے میں بچ گئیں تو وہ ان پر پھر اس طرح کا حملہ کریں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>