
ملالہ یوسفزئی کو پچھلے برس کئی عالمی اعزازات کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔
بی بی سی اردو سروس کے لیے گل مکئی کے نام سے سوات سے ڈائریاں لکھنے والی طالبہ ملالہ یوسفزئی پر حملے کے بعد مینگورہ شہر سکتے کے عالم میں ہے اور لوگ ایک مرتبہ پھر طالبان کے خوف میں مبتلا ہو گئے ہیں۔
سوات سے صحافی انور شاہ نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ شہر میں شدید خوف ہراس کا عالم ہے، لوگوں میں غم و غصے کے جذبات ہیں۔ مینگورہ کے بازار میں بڑی تعداد میں فوج اور پولیس کے اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
ملالہ یوسفزئی اور دوسری طالبات کو سکول لیے جانے والی وین کے ڈرائیور عثمان علی تھے۔ انھوں نے انور شاہ کو بتایا کہ دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے انھیں راستے میں رکنے کا اشارہ کیا اور پوچھا کہ کیا یہ وین خوشحال پبلک سکول کی ہے۔
ڈرائیور عثمان علی نے ان موٹر سائیکل سواروں سے کہا کہ وہ سکول جا کر پوچھیں اور وین کی رفتار تیز کر دی۔ اس اثناء میں فائرنگ کی آواز گونجنے لگی جسے سن کر ڈرائیور نے وین کی رفتار مزید بڑھا دی۔
وین کی رفتار تیز ہوتے ہی لڑکیوں نے چیخنا چلانا شروع کر دیا اور بتایا کہ ملالہ اور ان کی ساتھی شازیہ کے جسموں سے خون بہہ رہا ہے۔
عثمان علی وین کو سیدھا ہسپتال لےگئے جہاں انھیں معلوم چلا کہ ملالہ کے گلے میں اور شازیہ کے دائیں بازو میں گولی لگی ہے۔
انور شاہ نے بتایا کہ یہ واقع شریف آباد میں پیش آیا اور وہیں قریب ہی فوج کی چیک پوسٹ قائم ہے۔
انور شاہ کا کہنا ہے کہ لوگ ایک مرتبہ پھر اس خوف کا شکار ہو گئے ہیں کہ سوات طالبان کے ہاتھوں میں جا رہا ہے۔
ملالہ پر حملے کی خبر سن کر ان کے محلے دار اور اردگرد کے علاقوں سے خواتین، لڑکیاں، مرد اور بچے بڑی تعداد میں ان کے گھر پر جمع ہو گئے۔






























