
ملالہ یوسفزئی پر حملہ شاید پاکستانی سوشل میڈیا پر ایک یلغار تھی کہ چند منٹوں میں ہر طرف ملالہ ہی نظر آنا شروع ہو گئی۔
ملالہ لفظ ٹوئٹر پر پاکستان میں فوری ٹرینڈ کیا جس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں بے شمار لوگ اسی کے بارے میں ٹوئٹر پر بات کر رہے تھے اور اگر اسی طرح یہ ٹرینڈ جاری رہا تو شاید ملالہ عالمی سطح پر بھی ٹرینڈ کر جائے۔
ماروی سرمد نے شاید بہت ساروں کے جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ’پیاری ملالہ آنکھیں کھولو، تم ایک پاکستانی ہیرو ہو، تم نہ ہمیشہ بہادری سے لڑائی کی ہے، اب بھی لڑ کر اس (مشکل مرحلے سے) مسکراتی ہوئی نکلو‘۔
عدنان سپرین نے اسی صفحے پر طنزیہ انداز میں لکھا ’ہمیں ملالہ کے قاتلوں کو ڈرون حملوں سے ضرور بچانا چاہیے یہ اولین ترجیح ہے‘۔
سوشل میڈیا پر جاری اس بحث میں پشتون ثقافت کو شدت پسندانہ یا غیر شدت پسندانہ کے پرانے مسئلے نے بھی سر اٹھایا جس پر بہت سے لوگوں نے بات کی۔
فروغ وزمہ نے ٹوئٹ کی ’ملالہ پر حملہ ان لوگوں نے کیا جو پشتوں ثقافت کو شدت پسندانہ طور پر ترویج دینا چاہتے ہیں لیکن وہ تاریکی اور ظلم کے خلاف پشتون مزاحمت کی علامت ہے‘۔
محمد حنیف نے ٹوئٹ کی ’کچھ سال پہلے ایک خودکش حملہ آور کو پاکستان ٹی وی چینل پر انٹرویو کیا گیا۔ سوال: آپ معصوم بچوں کو نشانہ بناتے ہیں؟ جس پر خود کش حملہ آور نے جواب دیا کس نے طے کیا ہے کہ بچے معصوم ہوتے ہیں؟‘
عمر قریشی نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ملالہ پر حملہ اس لیے کیا گیا کیونکہ وہ طالبان کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی اور بولی۔ عمر نے مزید لکھا کہ ’وہ سب جو ملالہ کی زندگی کے لیے دعاؤں کا کہہ رہے انہیں کہنا چاہیے مگر نہ بھولیں کہ ملالہ کے ساتھ دوسرے بچے بھی زخمی ہوئے ہیں‘۔
"ڈرتے ہیں بندوقوں والے، لشکر والے ۔ ایک نہتی بچی سے، ایک بہادر بچی سے"
نان حلیم کی ٹوئٹ
آمنہ نواز نے ٹوئٹ کی ’طالبان نے ملالہ کو اپنے نشانے پر دو ہزار گیارہ کے شروع سے رکھا ہوا تھا لیکن انہوں نے پھر بھی اپنی آواز بلند کری اور امن کے لیے کام جاری رکھا۔ انہوں نے وہ بہادری دکھائی جو اس قوم کے رہنماؤں میں بھی نہیں ہے‘۔
سعید شاہ نے ٹوئٹ کی ملالہ یوسفزئی ’سوات میں پاکستانی طالبان کی دہشت کے سامنے کھڑی ہوئیں اس سے پہلے کے پورے ملک کو اس خطرے کا ادراک ہوتا‘۔
اس پر ردعمل اس قدر موثر تھا کہ جماعت الدعوۃ نے بھی ٹوئٹ کی ’ملالہ یوسفزئی کو قتل کرنے کی شرمناک، گھٹیا اور ظالمانہ کوشش۔ اللہ ان کی حفاظت کرے اور حملہ کرنے والوں اور منصوبہ بندی کرنے والوں کا برا ہو‘۔
بی بی سی کے ایک دیرینہ قاری نجیب الرحمٰن نے بی بی سی کے فیس بک صفحے پر سوشل میڈیا کے جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے لکھا ’ ملالہ یوسفزئی پر حملہ پاکستان کے ٹیلنٹ پر حملہ ہے۔ یہ حملہ ملالہ یوسف زئی پر نہیں بلکہ سوات کے مستقبل پر حملہ ہے۔ یہ حملہ دراصل طالبان نے خود پر کیا ہے اور اس حملہ سے اپنا اخلاقی، مذہبی اور سماجی اعتبار عوام پر سے کھو دیا ہے۔ اس حملہ کے بعد طالبان پسند لوگ بھی طالبان کو ناپسند کرنا شروع کر دیں گے اور اگر نہیں کریں گے تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے‘۔
ٹوئٹر پر ایک صارف جو نان حلیم کے نام سے لکھتے ہیں نے دو شعر لکھے جو یہاں تحریر ہیں ’لعنت ہے ان لوگوں پر جو پھولوں کو مسلنے والوں سے گلبانی و آرائش چمن کی آرزو رکھتے ہیں‘۔
ایک اور ٹوئٹ میں نان حلیم نے لکھا ’ڈرتے ہیں بندوقوں والے، لشکر والے ۔ ایک نہتی بچی سے، ایک بہادر بچی سے‘۔






























