
کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے سوات سے تعلق رکھنے والی امن ایوارڈ یافتہ طالبہ ملالہ یوسف زئی پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
بی بی سی اردو سروس میں گل مکئی کے نام سے سوات سے ڈائریاں لکھ کر عالمی شہرت حاصل کرنے والی ملالہ یوسفزئی منگل کو سوات میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شدید زخمی ہو گئی ہیں۔
تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو فون پر بتایا کے ملالہ یوسف زئی پر حملہ اس لیے کیا گیا کیوں کہ ان کے خیالات طالبان کے خلاف تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ملالہ اپنی طالبان مخالف فکر کا برملا اظہار بھی کرتی رہی ہیں لہٰذا ان پر حملہ کیا گیا ہے۔
کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ملالہ کے خیالات سیکولر تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ملالہ کو کیفرِ کردار تک پہنچا کر دم لیں گے۔
احسان اللہ احسان نے حملے کی وجہ بتاتے ہوئے مزید کہا کہ ملالہ بقول ان کے اپنے خیالات کے باعث اسلام مخالف خیالات رکھتی تھیں۔
مزید یہ کہ ایک موقع پر ملالہ یوسفزئی نے امریکی صدر براک اوباما کی تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ ’براک اوباما میرے آئیڈیل ہیں‘۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر سوات میں ایک سکول وین پر فائرنگ کی گئی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں امن ایوارڈ یافتہ طالبہ ملالہ یوسفزئی سمیت دو طالبات زخمی ہوئی ہیں۔
حکومتِ پاکستان نے انہیں سوات میں طالبان کے عروج کے دور میں بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر نقد انعام اور امن یوارڈ بھی دیا تھا۔ انہیں دو ہزار گیارہ میں ’انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائز‘ کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔
ملالہ یوسف زئی کا تعلق سوات کے صدر مقام مینگورہ سے ہے۔ سوات میں سنہ دو ہزار نو میں فوجی آپریشن سے پہلے حالات انتہائی کشیدہ تھے اور شدت پسند مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے حامی جنگجو وادی کے بیشتر علاقوں پر قابض تھے جبکہ لڑکیوں کی تعلیم پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی۔
ان حالات میں ملالہ یوسف زئی نے کمسن ہوتے ہوئے بھی انتہائی جرت کا مظاہرہ کیا اور مینگورہ سے ’گل مکئی‘ کے فرضی نام سے بی بی سی اردو سروس کےلیے ڈائری لکھی جس میں وہ سوات میں پیش آنے والے واقعات بیان کیا کرتی تھیں۔اس ڈائری کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ ان کی تحریریں مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی باقاعدگی سے شائع ہونے لگیں۔






























