
سماعت کے دوران عد الت کو بلوچستان میں شورش سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ایک ضلع ڈیرہ بگٹی کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان کا معاملہ پاکستان کا سب سے اہم مسئلہ ہے لیکن حکومت اور انتظامیہ ان حالات کی بہتری کا کوئی عزم اور جذبہ نہیں رکھتی ۔
چیف جسٹس نے یہ ریمارکس پیر کو بلوچستان کی صورتحال سے متعلق بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے جو رپورٹ پیش کی گئی ہے ’وہ 99 فیصد جھوٹ ہے‘۔ انہوں نے استفسار کیا کہ’ کیا ’ڈیتھ اسکواڈز‘ بند ہو گئے ہیں؟ یہاں تو لوگ اب بھی اسلحہ لے کر دندناتے پھر رہے ہیں۔‘
چیف جسٹس نے بلوچستان میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ اور دیگر سنگین جرائم میں ملزمان کی عدم گرفتاری پر بھی برہمی کا اظہار کیا ۔
عدالت میں موجود بلوچستان اسمبلی کے سپیکر محمد اسلم بھوتانی نے کہا کہ وہ عدلیہ کے احترام میں یہاں آئے ہیں اور بلوچستان کی صورتحال سے کوئی بھی مطمئن نہیں ہے۔ انہوں نے اس معاملے کو اٹھانے پر سپریم کورٹ کا شکریہ بھی ادا کیا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت ہو۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت آئین پر عمل نہیں کرے گی تو پھر آئین کے مطابق ہم حکم جاری کریں گے ۔کیا ہو گا آسمان تو نہیں گرے گا۔‘
سماعت کے دوران عد الت کو بلوچستان میں شورش سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ایک ضلع ڈیرہ بگٹی کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر اس درخواست میں صوبے کی ایک اہم پشتون قوم پرست جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی بھی فریق بن گئی ہے۔ سماعت کے دوران پارٹی کے رہنما عبد الرحیم زیارتوال نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بڑے پیمانے پر آئین کی پامالی ہو رہی ہے اور وہاں پشتونوں کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور وہ عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا یہ بھی کہنا تھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بلوچستان میں مسائل کے حل کی آئین کے دائرے میں کسی بھی حل کی حمایت کی بات کر کے ایک بڑی بات کی ہے۔






























