
پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جاری شورش کا جو بھی سیاسی حل ملک کے آئین کے دائرہ کار کے اندر رہ کر تجویز کیا جائے گا فوج اس کی مکمل حمایت کرے گی۔
ادھر بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل نے اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج پہلے آئین کی پاسداری کرنے کی خود یقین دہانی کرائے پھر آئین کے اندر رہ کر بلوچستان کے سیاسی حل کی بات کرے۔
جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جانب سے یہ پالیسی بیان روس کے چار روزہ دورے پر روانگی سے قبل جاری کیا گیا ہے۔
پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسئلہ کے کسی بھی سیاسی حل کی حمایت کی جائے گی بشرطیکہ یہ سیاسی حل پاکستان کے آئین کے مطابق ہو۔
فوج کے دفتر برائے تعلقات عامہ نے بری فوج کے سربراہ کے ملک کے سب اہم ترین مسئلے پر پالیسی بیان کی صرف تین سطریں جاری کی ہیں۔
’آج روس روانگی سے قبل بلوچستان کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ فوج ہر سیاسی عمل ، جو کہ آئینِ پاکستان کے اندر ہو، کی بھر پور حمایت کرتی ہے۔‘
اس بیان پر بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ان الفاظ پر کہ ’آئینِ پاکستان کے اندر رہتے ہوئے‘ سردار اختر مینگل نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا ماضی میں پاکستانی فوج کے سربراہوں نے جنہوں نے آئین کی پاسداری کا حلف بھی اٹھایا تھا جو کچھ کیا وہ آئین کے اندر رہتے ہوئے کیا تھا۔
بلوچ رہنما سردار اختر مینگل نے کہا کہ ان کی طرف سے پیش کردہ چھ نکات کے بارے میں بتایا جائے کہ ان میں سے کون سا نکتہ آئین یا قانون سے باہر ہے۔
"فوج پہلے آئین کی پاسداری کرنے کی خود یقین دہانی کرائے پھر آئین کے اندر رہ کر بلوچستان کے سیاسی حل کی بات کرے۔"
سردار اختر مینگل نے مزید کہا کہ کیا بلوچستان کے عوام کے ساتھ جو آج دن تک ہوا ہے یا ہو رہا ہے وہ پاکستان کے آئین کے اندر رہتے ہوئے کیا جا رہا ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ کیا ’مسخ شدہ لاشوں کا ملنا پاکستان کے آئین کے مطابق ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بیان سے نہیں لگتا کہ فوج پشیمان ہے یا وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا چاہتی ہے بلکہ یہ لوگوں کو دھوکہ دینے کوشش ہے۔
یاد رہے کہ بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے حال ہی میں بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے چھ نکات پیش کیے ہیں۔ انہوں نے ان چھ نکات میں ملک کی سکیورٹی ایجنسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
بلوچستان میں لاپتہ افراد کے حوالے سے اقوام متحدہ کا ایک مشن بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کر چکا ہے اور اس نے بلوچستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین اور دیگر سیاسی اور سماجی شخصیات سے کوئٹہ میں ملاقات کی تھی۔
بلوچستان اور وہاں لوگوں کی گمشدگیوں کے دن بدن پیچیدہ ہوتے ہوئے مسئلے پر سپریم کورٹ بھی سماعت کر رہی ہے۔
سپریم کورٹ میں اس مقدمے کی سماعت کے حوالے سے اختر مینگل ہی نے کہا تھا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ بلوچستان کے لوگوں کی شکایات کی شنوائی ہوئی ہے۔































