خضدار شہر میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 5 اکتوبر 2012 ,‭ 17:10 GMT 22:10 PST
بلوچستان

خضدار میں سنہ دو ہزار نو سے لے کر اب تک پانچ صحافی قتل ہو چکے ہیں

صوبہ بلوچستان کا شہر خضدار جہاں کبھی امن تھا ، قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے اب ایک میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ گیارہ سمتبر کے بعد سے اب تک دو درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں ان میں صحافی، تاجر، شاعر، سرکاری ملازم اور طلبا تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔

پانچ روز سے خضدار پریس کلب کو صحافیوں نے احتجاجاً تالے لگا دیے ہیں اور کوئی آٹھ روز سے خضدار کے بازار اور تجارتی مراکز بند پڑے ہیں۔ شہر میں ایک ہو کا عالم ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ خضدار معاشی اعتبار سے کوئی زیادہ فعال شہر نہیں ہے محدود پیمانے پر یہاں تجارتی سرگرمیاں ہیں لیکن اکثر لوگ روزانہ کی مزدوری پر کام کرتے ہیں۔

خوراک کی قلت کا سامنا بھی پایا جاتا ہے جس کے لیے لوگ قریبی علاقے وڈھ اور نال سے روز مرہ کے استعمال کی اشیاء لانے پر مجبور ہیں۔

خضدار میں اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز ایک شاعر اور گلوکار کو بھی ہلاک کیا گیا ہے۔ پانچ روز پہلے خضدار کے ایک ممتاز صحافی عبدالحق کو قتل کر دیا گیا تھا۔ خضدار کے صحافی اپنے ساتھی کے قتل کے بعد سے احتجاج کر رہے ہیں اس لیے وہ اپنے اپنے چینلز، اخباروں اور نیوز ایجنسیوں کو خبریں ارسال نہیں کر رہے۔

خضدار میں یہ کوئی پہلے صحافی نہیں ہیں جنہیں قتل کیا گیا ہے بلکہ سن دو ہزار نو سے اب تک تین سالوں میں خضدار کے پانچ صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے۔ ان صحافیوں میں حاجی وصی، فیض ساسولی، محمد خان ساسولی، منیر شاکر اور اب عبدالحق شامل ہیں۔ ان افراد کو کیوں قتل کیا گیا اس کی وجوہات واضح نہیں ہیں، ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ ٹارگٹ کلنگ کا جو سلسلہ اب جاری ہے اس میں کچھ معلوم نہیں ہے کہ کس کو کیوں قتل کیا جا رہا ہے ۔

جن دنوں میں کوئٹہ میں بی بی سی کے لیے کام کیا کرتا تھا ان دنوں خضدار جانے کا اکثر موقع مل جایا کرتا تھا۔ ان صحافیوں سے بھی ملاقات ہو جایا کرتی تھی۔ فیض سالولی اکثر کوئٹہ کے صحافیوں کے ساتھ خبروں کا تبادلہ کیا کرتے تھے۔

اگر حکومت اور سکیورٹی اداروں کے سربراہوں کے بیانات دیکھیں تو ایسے لگتا ہے کہ ساری توجہ بلوچستان کے مسئلے کے حل پر ہے لیکن اگر زمینی حقائق دیکھیں تو وہاں صورتحال یکسر مختلف ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار عطاءاللہ مینگل اور سردار اختر مینگل کا تعلق بھی ضلع خضدار سے ہے لیکن وہ خضدار کے قریب تحصیل وڈھ میں رہتے ہیں۔

خضدار کی صورتحال پر علاقے میں کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ میں نے خضدار شہر کے بارے میں جان بوجھ رکھنے والے ایک شہری سے رابطہ کیا تو انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ علاقے میں لوگ پریشان ہیں اکثر بزرگ کہتے ہیں کہ ایسا انھوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس علاقے میں ایسے حالات ہوں گے۔

ہر شخص خوف زدہ ہے، اکثر لوگ گھروں سے باہر بھی نہیں نکلتے، بڑی تعداد میں لوگ یہاں سے جا چکے ہیں، روزانہ مزدوری کر کے کمانے والے غریب افراد کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں ہندو عیسائی اور مختلف فرقوں کے لوگ کئی عرصے سے آباد ہیں اور انھیں کبھی کسی نے مذہب کی بنیاد پر کچھ نہیں کہا۔ یہاں گرجا گھر ہے اور غیر مسلم کو یہاں عبادت کی مکمل آزادی ہے۔

یہ شہر اگرچہ کوئٹہ کو کراچی سے منسلک کرنے والی اہم آر سی ڈی شاہراہ پر واقع ہے لیکن اس میں ترقی کے منصوبے کم ہی شروع کیے گئے ہیں۔ خضدار انجینیئرنگ یونیورسٹی کا قیام یہاں کے لیے ایک بڑا منصوبہ ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک اس یونیورسٹی میں خیبر پختونخواہ سمیت دیگر علاقوں سے طلبا تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں۔

آج اس شہر میں عرصہ دراز سے رہنے والے افراد کے لیے بھی زمین تنگ کر دی گئی ہے ۔ اس کا نتیجہ کچھ بھی نکلے لیکن مبصرین کے مطابق اس علاقے میں جو نفرت کے بیج بوئے جا رہے ہیں اس کے اثرات انتہائی خطرناک ثابت ہوں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>