
گزشتہ ماہ کی انتیس تاریخ کو صحافی عبدالحق کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا
دنیا میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان کے شہر خضدار میں صحافی عبدالحق بلوچ کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔
دریں اثناء وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے صحافی عبدالحق کے قتل کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کلِک خضدار پریس کلب کے سیکرٹری جنرل ہلاک
نیویارک میں سی پی جے کے صدر دفتر سے اس کے چیف رابطہ کار برائے ایشیا بوب ڈیزئیٹ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم صحافی عبدالحق کے قتل کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور ان کے اہل خانہ، دوستوں اور ساتھیوں سے اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔
سی پی جے کے اس بیان میں کہا گیا کہ’حکام کو صحافی کے قتل کی تحقیقات کرانی چاہیے اور تمام صحافیوں کو پاکستان میں صحافیوں کی زندگیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے خلاف مشترکہ طور پر جدوجہد کرنی چاہیے۔‘
سی پی جے کے سینیئر عہدیدار کے بقول علیحدگی پسند گروپوں، مذہبی عسکریت پسندوں بشمول طالبان، القاعدہ کی باقیات اور حکومتی زیادتیوں بھرے ردعمل نے صحافیوں کا کام اور زندگی مشکل کر دی ہے۔‘
خیال رہے کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے اس سرگرم عالمی تنظیم کی تحقیقاتی فہرست یا انڈیکس کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں ان دس ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں باقاعدگی سے صحافی قتل ہوتے رہتے ہیں اور ان کے قاتلوں کو کھلی چھوٹ ہوتی ہے۔
سی پی جے کی اس انڈیکس میں بتایا گیا ہے کہ سوائے وال سٹریٹ جرنل کے صحافی ڈینیل پرل کے قاتلوں کے پاکستان میں اب تک قتل ہونے والے صحافیوں کے کسی بھی قاتل کو گرفتار کر کر مقدمہ نہیں چلایا گیا۔
سی پی جے کی ایک تحقیق کے مطابق رواں سال پاکستان میں کم از کم تین صحافی قتل ہو چکے ہیں جن میں سے دو کا تعلق بلوچستان سے ہے۔
عالمی تنظیم سی پی جے کی تحقیق میں یہ بھی گنوایا گیا ہے کہ صحافیوں کیلیے پاکستان شام اور صومالیہ کی طرح اس وقت خطرناک ترین ممالک میں شامل ہے۔
دریں اثناء وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے صحافی عبدالحق کے قتل کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر داخلہ نے بتایا کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے ضروری قانون سازی کی جائے گی اور اس ضمن میں صحافیوں کی مشاورت سے قانون کا مسودہ تیار کیے جانے کے بعد جلد ہی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق کوئٹہ میں چھبیس صحافیوں کے خلاف درج کیے گئے مقدمات واپس لے لیے گئے ہیں۔
صحافیوں نے پیر کے روز کوئٹہ کے ریڈ زون میں خضدار میں اپنے ساتھی عبدالحق کی ہلاکت پر مظاہرہ کیا تھا جس پر صوبائی حکومت نے دفعہ ایک سو چوالیس کی خلاف ورزی پر صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے تھے۔






























