انسانی حقوق کے کمیشن کی تشکیل میں تاخیر

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 30 اگست 2012 ,‭ 09:30 GMT 14:30 PST

گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے لوگ مہم چلا رہے ہیں

پاکستان میں انسانی حقوق سے متعلق قومی کمیشن کے قیام کے لیے قانون سازی ہونے کے باوجود ابھی تک یہ کمیشن کام شروع نہیں کرسکا ہے۔

انسانی حقوق کے کمیشن کے مینڈیٹ میں لوگوں کے جبری اغواء اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنا شامل ہے۔

انسانی حقوق سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر مصطفی نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان بات چیت جاری ہے تاکہ اس کمیشن کے نو ارکان کے انتخاب کے لیے چار رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جاسکے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بیس سال قبل اقوام متحدہ سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ اس کمیشن کا قیام عمل میں لائے گا۔

مصطفی نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ نیشنل ہومین رائٹس کمیشن کے قیام کے بعد جو کوئی ادارہ بھی لوگوں کی جبری گمشدگی یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہوا تو اُس کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکے گی۔

مبصرین کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں اس کمیشن کا کام کرنا بظاہر مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

سنہ دو ہزار دس میں اقوام متحدہ نے ایک قرارداد کے ذریعے تیس اگست کو جبری گمشدی یعنی لاپتہ افراد کا عالمی دن قرار دیا تھا۔

مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے اعداوشمار کے مطابق اس وقت ملک میں لاپتہ افراد کی تعداد دو ہزار سے زائد ہے جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ ان میں سے بہت سے افراد بازیاب ہوچکے ہیں اور ملک بھر میں سینتالیس افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اور جبری طور پر گمشدہ کیے جانے والے افراد کے ورثاء اس حکومتی موقف کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

بہت سے افراد کے اہل خانہ برسوں سے لا پتہ ہیں

اقوام متحدہ نے بھی متعدد بار بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے افراد سے متعلق اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ان کے عزیز واقارب ملک کے مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ حکومت جبری گمشدگی کے معاملے کو حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔

لاپتہ افراد کے ورثاء بالخصوص بلوچستان سے تعلق رکھنے والے افراد فوج اور خفیہ ایجنسیوں پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ ان کے پیاروں کو اغواء کر کے قتل کرنے کے بعد ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینک دیتے ہیں۔

ڈیفنس آف ہومین رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے بی بی سی کو بتایا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے لگائے گئے احتجاجی کیمپوں کی وجہ سے حکومت نے اس کا کچھ نوٹس لیا ہے اور اس سال پچاس کے قریب افراد مختلف علاقوں سے بازیاب ہوئے ہیں۔

وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس ایک سو انتالیس افراد کو بازیاب کروایا گیا تھا۔ وزیر داخلہ رحمان ملک کے بقول کچھ افراد افغانستان اور بیرون ممالک جاچکے ہیں اور ان کے نام بھی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔

آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ اگرچہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جاوید اقبال کی سربراہی میں بنائے جانے والا کمیشن کوشثیں تو کرتا ہے لیکن اُن کی یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوتیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اب صرف سپریم کورٹ سے ہی اُمیدیں وابستہ ہیں کہ وہ ایسے لوگوں کو بازیاب کروائیں جنہیں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اب تک جتنے افراد بھی بازیاب ہوئے ہیں اُس میں زیادہ کردار سپریم کورٹ کا ہے۔

لاپتہ افراد سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی متعدد بار اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ شواہد سے ایسا دیکھائی دیتا ہے کہ لوگوں کے اغوا کے متعدد واقعات میں فوج اور خفیہ اداروں کے اہلکار بھی ملوث ہیں اور اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو پھر آرمی چیف کو بھی عدالت میں طلب کیا جاسکتا ہے۔

حکومت نے لاپتہ افراد سے متعلق بلوچستان صوبے کے لیے ایک پالیسی بنائی ہے کہ اگر کوئی شخص وہاں سے لاپتہ ہو اور پھر اس کی مسخ شدہ لاش بھی مل جائے تو اس کے ورثاء کو چار لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے لیکن وہ بھی اس صورت میں جب متعلقہ علاقے کے ڈپٹی کمشنر اس بات کی تصدیق کریں کہ ہلاک ہونے والہ شخص کسی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>