
ڈرون حملوں کی وجہ سے مقامی آبادی میں شدید خوف پایا جاتا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں چار شدت پسند ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔
میرانشاہ میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر مقام میرانشاہ میں شہر سے پانچ کلومیٹر دور جنوب کی جانب ہمزونی کے علاقے میں ایک امریکی جاسوس طیارے نے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔ اس حملے کے نتیجہ میں چار افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے۔
سرکاری اہلکار کے مطابق امریکی ڈرون طیارے سےگاڑی پر چار میزائل فائر کیے گئے جس کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی جبکہ قریب ہی ایک مکان کو بھی نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے مقامی طالبان ہیں جن کا تعلق حافظ گل بہادر گروپ سے بتایا جاتا ہے۔ اہلکار کے مطابق ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ ہلاک ہونے والوں میں کوئی اہم شخص بھی شامل ہے یا نہیں۔
پاکستان کے قبائلی علاقے خصوصاً شمالی و جنوبی وزیرستان ایجنسی میں ڈرون حملے ہونا ایک معمول بن گیا ہے۔ جہاں مقامی لوگوں کے مطابق چوبیس گھنٹے ڈرون طیارے موجود رہتے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں ایک ہی وقت میں چار سے چھ تک ڈرون طیارے موجود رہتے ہیں۔ جس کی آواز سے عام شہری تنگ آچکے ہیں۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ پہلے ڈرون طیاروں کے حملوں سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا تھا کیونکہ اس وقت صرف غیر مُلکیوں کو نشانہ بناتے تھے اور آج کل مقامی طالبان بھی نشانے پر ہیں جس کی وجہ سے عام شہریوں میں بھی خوف پیدا ہوگیا ہے۔






























