شمالی وزیرستان: ڈرون حملے میں آٹھ ہلاک

پاکستان اصرار کرتا ہے کہ ڈرون حملے اس کی ملکی خودمختاری کے خلاف ہیں

،تصویر کا ذریعہusaf

،تصویر کا کیپشنپاکستان اصرار کرتا ہے کہ ڈرون حملے اس کی ملکی خودمختاری کے خلاف ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کے مطابق امریکی جاسوس طیارے نے شدت پسندوں کے ایک کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا ہے اور اس حملے میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ حملہ اتوار کی صبح شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے تقریباً سات کلومیٹر کے فاصلے پر افغان سرحد کے قریب تحصیل شوال کے علاقے کونڈ غر میں ہوا۔

یہ علاقہ جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان کے مابین سرحد پر واقع ہے۔

انتظامیہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ امریکی جاسوس طیارے سے دو میزائل داغے گئے اور حملے کا نشانہ بننے والی عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

اہلکار کے مطابق اس حملے میں مکان میں موجود آٹھ افراد ہلاک ہو گئے جو سب مقامی تھے اور ان کا تعلق حافظ گل بہادر گروپ سے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مرنے والوں کی عمریں اٹھارہ سے بیس برس کے درمیان ہیں اور وہ اس مکان میں تربیت حاصل کر رہے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں یہ کمپاؤنڈ حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے قبضے میں بھی رہا تھا۔

امریکی حکام پاکستان سے بارہا حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور حال ہی میں امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے کہا تھا کہ اس معاملے پر واشنگٹن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔

امریکی کانگریس میں بھی گزشتہ ہفتے ایک قرارداد پیش کی گئی ہے جس میں حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان ڈرون حملوں کے بارے میں کافی تناؤ پایا جاتا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے ملکی خودمختاری کے خلاف ہیں اور وہ کئی بار باضابطہ طور پر امریکہ سے احتجاج کر چکا ہے۔

پاکستان کی مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتیں بھی ملک میں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کرتی رہی ہیں۔

ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ ڈون حملے شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں ایک موثر ہتھیار ثابت ہو رہے ہیں اور ان حملوں کا قانونی اور اخلاقی جواز موجود ہے۔