مانسہرہ میں مسافروں پر حملہ، انیس ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 16 اگست 2012 ,‭ 12:56 GMT 17:56 PST

اپریل میں بھی گلگت بلتستان کے شہر چلاس میں ایک مُسافر گاڑی پر حملے میں نو افراد ہلاک ہوگئے تھے جس پر علاقے میں احتجاج بھی کیا گیا تھا۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع مانسہرہ کے دور دراز علاقے بابوسر روڈ پر نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ سے مقامی پولیس کے مطابق کم سے کم اُنیس افراد ہلاک ہوگئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افراد پبلک ٹرانسپورٹ میں راولپنڈی سے گلگت جارہے تھے اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

مقامی صحافیوں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد چوبیس ہے جبکہ گلگت بلستستان کے وزیرِ خزانہ محمد علی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد پچیس ہے۔

مانسہرہ کے ضلعی پولیس آفیسر شیر اکبر نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ تاہم انہوں نے اس واقعے کو فرقہ وارانہ تشش کی کارروائی قرار دیا۔

کالعدم تحریک طالبان درہ آدم خیل کے ترجمان محمد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی طالبان کے المنصورین گروپ نے کی جس کی سربراہی گروپ کے امیر طارق منصور خود کر رہے تھے۔

اس سے پہلے گلگت جانے والے مختلف راستوں پر فائرنگ کے متعدد واقعات ہوچکے ہیں جن میں متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد شعیہ برادری سے تعلق رکھتی تھی۔

مقامی پولیس اہلکاروں نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ تین مسافر گاڑیاں راولپنڈی سے گلگت جار رہی تھی کہ بابو سر روڈ پر لولوسر کے مقام پر نامعلوم مسلح افراد نے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرکے مذکورہ انہیں روک لیا اور ان گاڑیوں میں سوار افراد کے شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد اُنہیں گاڑیوں سے اُتارا اور اُنہیں لائن میں کھڑا کرکے گولیاں مار دیں۔ پولسی کے مطابق اُنیس افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں تاہم ملزمان ہلاک ہونے والوں کے پاس نقدی اور اُن کی شناخت کے دیگر دستاویزات اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

گلگت کے مقامی صحافی سعادت علی مجاہد نے بی بی سی کو بتایا عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور فوجی وردیوں میں ملبوس تھے اور ان کی تعداد پندرہ کے قریب تھی۔ مرنے والے تمام افراد اہلِ تشیع سے بتایا گیا ہے۔

مقامی پولیس کے بقول ہلاک ہونے والے افراد کے سازو سامان سے ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ عید منانے کے لیے گھر جارہے تھے۔

کاغان تھانے کے سربراہ اورنگ زیب کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی کہ اُن کی حدود میں واقع لولوسر کے مقام پر لاشیں پڑی ہوئی ہیں جس پر پولیس نے جائے حادثہ پر پہنچ کر لاشیں قبضے میں لے لیں۔

حفاظتی اقدامات

گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں میں گاڑیوں کو روک کر مسافروں کو اُتار کہ اُنہیں نشانہ بنانے کے واقعات کے سدباب کے لیے گلگلت بلتستان کی حکومت نے وفاقی حکومت کے ساتھ ملکر ایک حکمت عملی طے کی تھی کہ مسافر گاڑیاں جن جن علاقوں سے گُزریں گے تو متعقلہ تھانے کے اہلکار اُن کی حفاظت کے لیے گاڑی فراہم کریں گے جو کہ اگلے تھانے کی حدود شروع ہونے تک اس مسافر گاڑی کے ساتھ ہوں گے تاہم اس حکمت عملی پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا۔

جب اُن سے یہ پوچھا گیا کہ کیا ہلاک ہونے والوں کی شناخت ہوسکی ہے جس پر پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ابھی تو لاشوں کو ڈسٹرکٹ ہسپتال مانسہرہ شفٹ کیا جارہا جہاں پر پوسٹ مارٹم کے بعد اُن کی شناخت کا عمل شروع ہوگا۔

پولیس کے بقول ہلاک ہونے والوں کی عمریں پچیس سے تیس سال کے درمیان ہیں اور ہلاک ہونے والوں میں کوئی خاتون شامل نہیں ہے۔

پولیس اہلکار کے بقول ملزمان نے مسافروں پر کلاشنکوف اور دیگر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔

تھانے سٹی مانسہرہ کے ایس ایچ او ذوالفقار عباسی کے مطابق پولیس کنٹرول پر یہ پیغام چل رہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد بائیس سے تجاوز کر گئی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ جائے حادثہ مانسہرہ شہر سے تین سے چار گھنٹے کی مسافت پر ہے اس لیے لاشوں کو ہسپتال پہنچانے میں بھی کافی وقت لگ جائے گا۔ ابھی تک کسی تنظیم نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

یاد رہے کہ گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں میں گاڑیوں کو روک کر مسافروں کو اُتار کہ اُنہیں نشانہ بنانے کے واقعات کے سدباب کے لیے گلگلت بلتستان کی حکومت نے وفاقی حکومت کے ساتھ ملکر ایک حکمت عملی طے کی تھی کہ مسافر گاڑیاں جن جن علاقوں سے گُزریں گے تو متعقلہ تھانے کے اہلکار اُن کی حفاظت کے لیے گاڑی فراہم کریں گے جو کہ اگلے تھانے کی حدود شروع ہونے تک اس مسافر گاڑی کے ساتھ ہوں گے تاہم اس حکمت عملی پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا۔

اسی بارے میں

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>