توہین عدالت: ملک ریاض پر فردِ جرم عائد

عدالت نے اس مقدمے کی سماعت انتیس اگست تک کے لیے ملتوی کردی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنعدالت نے اس مقدمے کی سماعت انتیس اگست تک کے لیے ملتوی کردی
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کاروباری شخصیت ملک ریاض پر توہین عدالت کے مقدمے میں ان پر جمعرات کو فرد جرم عائد کر دی ہے جبکہ ملک ریاض نےجرم کی صحت سے انکار کیا ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو اس مقدمے میں استغاثہ کا کردار ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

نجی رہائشی منصوبے بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض کے خلاف بارہ جون کو کی جانے والی پریس کانفرنس پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کی گئی تھی۔

اس پریس کانفرنس میں ملک ریاض نے الزام عائد کیا تھا کہ سپریم کورٹ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان افتخار نے یرغمال بنا رکھا ہے اور وہ اس ادارے کو ڈان کی طرح چلا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ملک ریاض نے الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے اپنے اور بحریہ ٹاؤن کے خلاف سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات میں ریلیف حاصل کرنے کے لیے چیف جسٹس کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان کو بتیس کروڑ روپے ان کے بیرون ممالک دوروں پر اٹھنے والے اخراجات کی مد میں دیے تھے تاہم انہیں ان مقدمات میں ریلیف نہیں ملا۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کی تو ملک ریاض کے وکیل ڈاکٹر عبدالباسط نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس کارروائی کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کر رکھی ہے اور یہ اپیل توہین عدالت کے نئے قانون کے تحت کی گئی ہے اس لیے پہلے اس درخواست کا فیصلہ ہوجانا چاہیے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ توہین عدالت کا نیا قانون کالعدم ہوچکا ہے اور عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اس قانون کو ایسے سمجھا جائے جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں۔

ملک ریاض کے وکیل کا کہنا تھا کہ پہلے اس مقدمے کی سماعت سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کر رہا تھا اور اب اس کی سماعت دو رکنی بینچ کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان کے موکل پر آج فرد جرم عائد ہوئی تو ان کی اپیل کا حق متاثر ہوگا تاہم عدالت ملک ریاض کے وکیل کے دلائل سے متفق نہیں ہوئی۔

اٹارنی جنرل عرفان قادر نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک ریاض نے جو الفاظ پریس کانفرنس میں ادا کیے تھے وہ چارج شیٹ میں نہیں ہیں لہذا عدالت اس معاملے کو بھی دیکھے۔

بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کے جن الفاظ پر تو توہین عدالت عائد کی گئی وہ الفاظ چارج شیٹ میں درج ہونے چاہیے تھے۔

بینچ میں موجود جسٹس شیخ عظمت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف چارج شیٹ ہے ٹرائل میں تمام معاملات سامنے آجائیں گے۔

ڈاکٹر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ ان کے موکل پر جو الزامات عائد کیے گئے ہیں وہ انتہائی مبہم ہیں تاہم عدالت نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور ملک ریاض پر توہین عدالت میں فرد جرم عائد کردی۔ بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ نے ان الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

ملک ریاض کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل علاج کے لیے باہر جانا چاہتے ہیں لہذا انہیں باہر جانے کی اجازت دی جائے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ملک ریاض کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نہیں ہے لہذا اگر وہ باہر جانا چاہیں تو ان پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

عدالت اس مقدمے کی سماعت انتیس اگست تک کے لیے ملتوی کردی۔