کشمیر: سیاحوں کی تعداد میں اضافہ

- مصنف, ذوالفقار علی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے محکمہ سیاحت کا کہنا ہے کہ رواں سال سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نے کشمیر کا رخ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں سیاح پاکستان کے زیر انتظام کشمیر جا رہے ہیں۔
مطفرآباد میں محکمہ سیاحت کے ڈائریکٹر ارشاد پیرزادہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر کئی سالوں سے امن ہونے کی وجہ سے اتنی بڑی تعداد میں سیاح اس خطے کا رخ کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حکومت نے سیاحت کے فروغ کے لیے وسیع پیمانے پر مہم بھی شروع کر رکھی ہے۔ ارشاد پیرزادہ نے کہا کہ سیاحتی مقام کے داخلی مقامات سے گذرنے والی گاڑیوں میں مسافروں کی تعداد دیکھ کر اندازہ لگایا جاتا ہے کہ کتنے سیاحوں نے سفر کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ پچھلے سال کے نسبت اس سال تین گناہ زیادہ سیاح پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر گئے۔ صرف پاکستانی شہری ہی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کا بلا روک ٹوک سفر کر سکتے ہیں۔
پاکستان آنے والے غیر ملکیوں کو اس خطے میں جانے کے لیے خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے اور اجازت مل جانے کے بعد بھی غیر ملکیوں پر لازم ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول سے آٹھ کلومیٹر دور ر ہیں۔
مظفرآباد محمکہ سیاحت کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کے ساتھ یہ مسئلہ اٹھایا گیا ہے کہ غیر ملکیوں کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سفر کرنے کی اجازت ہو۔
‘ہر ادارے اور ہر حکومت کی اپنے تحفظات ہوتے ہیں اور اس کے بارے میں (پاکستان کے حکام کے ساتھ) بات چیت جاری ہے اور جب پاکستان کی قومی سیاحتی پالیسی کو حتمی شکل دی جاتی ہے تو ہمیں امید ہے کہ یہ (غیرملکیوں) پابندی ختم ہوجائے گی۔‘
انھوں نے کہا:’اسوقت ہمارا کلی طور پر مقامی سیاحت پر انحصار ہے اور غیرملکیوں کے داخلے پر پابندی اس خطے کی سیاحت کے فروغ میں بڑی رکاوٹ ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ارشاد پیرزادہ کا کہنا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سفر کرنے کے لیے غیر ملکیوں پر کوئی پابندی نہیں اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی (غیر ملکیوں پر) پابندی ختم ہونی چاہیے۔
سیاحوں کے لیے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں دلکشی کا سامان موجود ہے اور اگر سیاحت کی طرف بھر پور توجہ دی جاتی ہے تو یہ اس غریب علاقے کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہوسکتا ہے۔







