ارسلان کےخلاف تحقیق غیر معینہ مدت تک ملتوی

چیف جسٹس کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنچیف جسٹس کے بیٹے نے مشترکہ تحققیاتی ٹیم پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے قومی احستاب بیورو یعنی نیب نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان افتخار اور نجی تعمیراتی کمپنی بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض کے درمیان پیسوں کے مبینہ لین دین کے معاملے کی چھان بین کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں سے دو افسران کو تبدیل کر دیا ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس مشترکہ ٹیم کو تاحکم ثانی کام کرنے سے روک دیا ہے۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے اپنے اکتیس جولائی کے حکم نامے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو دو روز کے لیے کام کرنے سے روکا تھا۔

جن دو اہلکاروں کو اس ٹیم سے نکالا گیا ہے اُن میں اسلام آباد پولیس کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس فیصل میمن اور ایف آئی اے یعنی وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نصراللہ گوندل شامل ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے بیٹے نے اس مشترکہ تحققیاتی ٹیم پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے نظرثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی تھی۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی تو نیب کے پراسیکوٹر جنرل کے کے آغا نے عدالت کو بتایا کہ اس تحقیقاتی ٹیم میں شامل دو ارکان پر اعتراض کے بعد اُنہیں اس ٹیم سے نکال دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گُزشتہ سماعت کے دوران عدالت میں ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی تھی جس میں نظر آرہا تھا کہ ملک ریاض کی عدالت میں پہلی پیشی کے دوران ایس پی فیصل میمن ملک ریاض کے ساتھ ساتھ تھے اور اُن کے کان میں سرگوشیاں بھی کر رہے تھے حالانکہ اُس دن اُن کی ڈیوٹی بھی نہیں تھی۔

نیب کے پراسیکوٹر جنرل کے کے آغا نے کہا کہ اب نیب کے ڈائریکٹر جنرل فنانشل کرائم کی سربراہی میں نیب کی ہی تین رکنی ٹیم تفتیش کرے گی تاہم اُنہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس ٹیم میں دیگر ارکان کے نام کیا ہیں۔

عدالت نے نیب کے حکام سے کہا ہے کہ وہ نئی ٹیم سے متعلق تحریری شکل میں ڈاکٹر ارسلان کے وکیل کو بھی آگاہ کریں جس کے بعد وہ اپنے موکل سے مشورہ کریں کہ آیا اُنہیں اس ٹیم پر اعتماد ہے یا نہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ نیب کو اس معاملے کی تحقیقات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور اگر عدالت چاہے تو اس کی تحقیقات کسی دوسرے ادارے سے بھی کروا سکتی ہے۔ بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حیسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ نیب کے اس فیصلے کی قدر کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ گُزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے سیکرٹری داخلہ اور ایس پی فیصل میمن کو تحریری جواب داخل کروانے کو کہا تھا لیکن اُنہوں نے یہ نہیں کیا۔ سپریم کورٹ نے سیکرٹری داخلہ کی عدم موجودگی پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور اب انہیں جمعہ کتین اگست کو عدالت میں طلب کرلیا ہے۔ سپریم کورٹ نے سیکرٹری داخلہ سے بارہ جولائی کو ملک ریاض کی سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے متعلق رپورٹ طلب کر رکھی ہے۔