نوادرات محکمہ آثار قدیمہ کے حوالے کیے جائیں

ان مجسموں اور مورتیوں میں بدھ مذہب کے بانی مہاتما بدھ کی پیدائش، وفات اور ان کے قریبی رشتے داروں کی عکاسی کی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنان مجسموں اور مورتیوں میں بدھ مذہب کے بانی مہاتما بدھ کی پیدائش، وفات اور ان کے قریبی رشتے داروں کی عکاسی کی گئی ہے

پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شہر کراچی کی ایک مقامی عدالت نے چار سو مورتیاں اور مجسمے صوبائی محکمہ آثار قدیمہ کے حوالے کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

عوامی کالونی پولیس لانڈھی نے ایک ٹرک پر چھاپہ مارکر گندھارا تہذیب کے چار سو نوادرات برآمد کرنے کادعویٰ کیا تھا۔ پولیس نے ڈرائیور سمیت چار افراد کو گرفتار کیا تھا جن میں سے دو بعد میں ضمانت پر رہا ہوگئے تھے۔

پولیس سٹیشن میں موجود ان نوادرات میں سے کچھ ٹوٹ گئے ہیں جبکہ ایک مجسمے کا سر چوری ہوگیا، جس کے بعد ان نوادرات کے تحفظ کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے۔

محکمہ آرکیالوجی کے ڈائریکٹر سید قاسم علی شاہ نے مقامی عدالت میں ایک درخواست دائر کی تھی، جس میں استدعا کی گئی کہ یہ نوادرات ان کی تحویل میں دے دئیے جائیں۔

جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کے پاس دائر درخواست میں قاسم علی شاہ نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ پولیس سٹیشن میں یہ نوادرات غیر محفوظ ہیں اور پولیس نے ان نوادرات کو انہیں دینے سے انکار کر دیا ہے۔

محکمہ آرکیالوجی نے یہ نوادرات نیشنل میوزیم میں منتقل کرنے کی درخواست کی تھی تاکہ وہ وہاں محفوظ رہیں اور انہیں عوام بھی دیکھ سکیں۔

دوسری جانب پولیس کا موقف تھا کہ یہ نوادارت اس کارروائی کا ثبوت ہیں، اس لیے وہ انہیں کسی کے سپرد نہیں کرسکتے لیکن عدالت حکم جاری کرے تو وہ اس پر عملدرآمد کے پابند ہیں۔

یاد رہے کہ ان مجسموں اور مورتیوں میں بدھ مذہب کے بانی مہاتما بدھ کی پیدائش، وفات اور ان کے قریبی رشتے داروں کی عکاسی کی گئی ہے۔

خیبر پختون خواہ کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ نوادرات ان کے میوزیم سے چوری کیئے گئے ہیں، جو انہیں واپس دیئے جائیں۔