افغان پناہ گزینوں کے اندراج کی مہلت ختم

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستان میں خیبر پختونخواہ حکومت کی جانب سے افغان پناہ گزینوں کے لیے رجسٹریشن کی مہلت سنیچر کو ختم ہوگئی ہے۔
اندازوں کے مطابق اس کے بعد تقریباً دس لاکھ افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔
صوبائی حکومت کے حکام کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن کے بغیر مقیم افغان پناہ گزینوں کو اب چھوٹ نہیں دی جائے گی اور ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
اس فیصلے سے ان سترہ لاکھ افغان پناہ گزینوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا جو قانونی طور پر رجسٹریشن کروا کر پاکستان میں مقیم ہیں۔
کچھ حلقوں میں حکومتی سطح پر ان نئی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بغیر اندراج کے رہنے والوں پر سختی کی گئی تو پولیس کے افغان پناہ گزینوں کو ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوگا۔
پاکستان نے سرد جنگ اور طالبان دور میں افغانستان سے آنے والے لاکھوں مہاجرین کو پناہ دی تاہم ان کی واپسی کی گرتی ہوئی شرح کم ہونے پر حکومتِ پاکستان پریشان ہے۔
افغان پناہ گزینوں کو اب ’اقتصادی مہاجرین‘ مانا جاتا ہے کیونکہ بیشتر ذریعہِ معاش کے بہتر مواقعے کی تلاش میں پاکستان آئے ہیں۔
پاکستان اور ایران افغانستان کے غیر مستحکم ادوار میں تارکینِ وطن کے لیے اپنی سرحدیں کھولتے رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ دو ہزار دو سے پاکستان سے افغان پناہ گزین رضاکارانہ بنیادوں پر واپس جا رہے ہیں۔ گزشتہ دس سالوں میں تقریباً چالیس لاکھ پناہ گزین واپس افغانستان جا چکے ہیں تاہم سترہ لاکھ ابھی بھی قانونی طور پر پاکستان میں مقیم ہیں۔
قانونی طور پر اندراج کروانے والے پناہ گزینوں کو خصوصی کارڈ دیے جاتے ہیں جو کہ اس سال کے آخر میں کارآمد نہیں رہیں گے۔ آئندہ سال کی حکمتِ عملی کے بارے میں پاکستانی حکومت کی جانب سے کوئی واضح حکمتِ عملی سامنے نہیں آئی۔







