پولیو کے قطرے پلانے سے انکار، خاتون کی ضمانت

پولیو: فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنیہ پہلی مرتبہ ہے کہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار پر پنجاب میں کسی خاتون کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے

لاہور کی ایک مقامی عدالت نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والی خاتون کو ضمانت ہر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

عدالت نے خاتون کو تیس ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔

لاہور پولیس نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم کی سربراہ کی درخواست پر خاتون کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کیا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے جو پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کی پولیس نے پولیو ٹیم کی درخواست پر درج کیا۔

تفتیشی افسر محمد ریاست نے بتایا کہ بانو نامی خاتون کو گزشتہ رات گرفتار کیاگیا تھا اور انہیں ویمن پولیس سٹیشن منتقل کر دیا گیا تھا۔

قانون کے تحت خاتون کو پولیس نے مقامی عدالت کے روبرو پیش کیا تاہم عدالت نے خاتون کی ضمانت منظور کر لی۔

پولیو کے خاتمے کی مہم کے دوران لاہور کے علاقے بادامی باغ کی خاتون بانو نے لیڈیز ہیتلھ ورکز کو پولیو کےقطرے پلانے سے روک دیا جس پر خاتون کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

پولیس نے بچوں کو قطرے نہ پلانے والی خاتون کے خلاف سرکاری کام میں مداخلت کرنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے الزامات میں مقدمہ درج کیا تھا۔

لیڈیر ہیتلھ سپرپروائیزر مصباح منیر کی درخواست پر درج ہونے والے مقدمے میں الزام لگایا گیا کہ مدعی دیگر ہیتلھ ورکرز کے ساتھ پولیو مہم کے دوران بچوں کو قطرے پلا رہی تھیں اور جب وہ بانو نامی خاتون کے گھر پہنچیں تو خاتون نے اپنے بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کردیا اور پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم کے کام میں رکاوٹ ڈالی بلکہ انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔

پاکستان میں بچوں میں پولیو سے بچاؤ کے لیے وقفے وقفے سے مہم چلائی جاتی ہے اور اس مہم کے تحت محکمہ صحت کے اہلکار گھر گھر جاکر بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتے ہیں۔

پولیس کے مطابق خاتون بانو کایہ موقف ہے کہ انہوں نے بچوں کو ایک دن پہلے ہی پولیو کے قطرے پلائے تھے جبکہ قطرے پلانے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ بچوں کو کوئی قطرے نہیں پلائے گئے اور خاتون نے غلط بیانی کی ہے۔

قانون کے مطابق تعزیرات پاکستان کی جن دفعات کے تحت خاتون کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے وہ قابل ضانت ہیں اور ان الزامات کے ثابت ہونے پر ملزم کو قید یا جرمانے میں کوئی ایک یا پھر دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔