خودکش حملے ایک پاگل پن ہے: عمران خان

عمران خان

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنخودکش حملے کا تعلق اسلام سےنہیں ہے بلکہ ڈرون حملوں اور فوجی آپریشن سے ہونے والی ہلاکتوںسے ہے۔عمران

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ اگر ان کے خاندان کو بھی مار دیا جائے تو وہ بھی اس قابل ہوں گے کہ خود کش حملہ آور بن جائیں البتہ انہوں نے واضح کیا کہ خود کش حملہ ایک پاگل پن ہے۔

یہ بات انہوں نے لاہور کے مقامی ہوٹل میں تحریک انصاف کے زیر اہتمام کُل پاکستان علماء مشائخ اور گدی نشینوں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کی۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نےکہا کہ وہ مسجدوں اور دیگر عوامی مقامات پر خودکش حملوں اور بم دھماکوں کے سخت خلاف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خودکش حملے کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ ڈرون حملوں اور فوجی آپریشن سے ہونے والی ہلاکتوں کا ردعمل ہے۔

عمران خان نے کہا کہ جب کسی شخص کا پورا خاندان ہلاک کردیا جائے تو وہ پاگل ہوسکتا ہے۔انہوں نے سری لنکا کی مثال دی اور کہا کہ جب وہاں کے تمل لوگوں کو دیوار کے ساتھ لگا دیا جاتا تھا تو وہ خودکش حملے کرتے تھے۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق کانفرنس میں شریک کئی علماء و مشائخ نے عمران خان کے جلسوں میں ہونے والے میوزک کنسرٹس اور گانوں پر اعتراض کیا اور دھواں دار تقریریں کی۔

جماعتہ الدعوۃ کے مرکزی رہنما عبدالرحمان مکی نے کانفرنس کے بعد بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گانا بجانا اسلام کے خلاف ہے۔

متعدد علماء و مشائخ کے یہ اعتراضات عمران خان نے مسترد کردیے اور کہا کہ برصغیر میں قوالی کے ذریعے اسلام پھیلایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر میوزک نہ لایا گیا تو نوجوان نسل ہم سے کٹ جائے گی۔دار العلوم عبیدیہ کے مہتمم اور دینی مدارس بورڈ پاکستان کے چیئرمین مفتی عبدالقوی نے اس معاملے پر عمران خان کی حمایت کی۔

انہوں نے کہا کہ اگر گانوں کے جملے بیہودہ نہ ہوں اور ان کے معنوں سے بے حیائی نہ نکلتی ہو بلکہ میوزک کو مثبت کام کے لیے استعمال کیاجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف پاکستان کی دیگر تمام جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ اچھی سیاسی پارٹی ہے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ انہیں علماء ومشائخ اور گدی نشینوں کی رہنمائی اور مشاورت کی ضرورت ہے اور اگر کہیں وہ غلطی کر رہے ہوں تو ان کی اصلاح کر دی جائے۔