’لگتا تھا کہ کشتیاں جلا کر آئے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, عنبر شمسی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
چند دن قبل جب میں بحریہ ٹاؤن گئی تو اسے دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک کی ہاؤسنگ سکیم کے مقابلے کی سکیم پایا۔
میرے کئی جاننے والوں نے یہاں یا تو زمین خرید رکھی ہے یا کرائے پر رہتے ہیں۔ سب یہی کہتے ہیں ’بڑی اچھی جگہ ہے، یہاں لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی‘۔
اپنی پریس کانفرنس میں کھرب پتی اور بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے یہی دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنی ہاؤسنگ سکیم میں ایسی سہولیات فراہم کی ہیں جو حکومتِ پاکستان اپنے باشندوں کو نہیں دے سکتی۔
ملک ریاض کا بحریہ ٹاؤن جتنا پُر امن ہے، منگل کے روز اسلام آباد کے ایک عالی شان ہوٹل میں ہونی والی ان کی پریس کانفرنس اتنی ہی ہنگامہ خیز تھی۔
صحافیوں کے ہجوم میں، میں دوسری خاتون تھی۔ ایک اور خاتون صحافی شیشے کے سامنے صوفے پر اپنی نوٹ بک تھامے بیٹھی تھیں۔
ملک ریاض کے آنے سے قبل کُھسر پُھسر ہو رہی تھی کہ اس پریس کانفرنس میں کیا انکشاف کیا جائے گا، کیا ملک ریاض ان صحافیوں کے بارے میں بتائیں گے جنہیں مبینہ طور پر انہوں نے رشوت دی۔ کیا وہ چیف جسٹس کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان کے بارے میں مزید شواہد پیش کریں گے؟
ملک ریاض کی آمد سے قبل جب لفافوں کا کارٹن میز پر رکھا گیا، تو مذاق چلا، شاید اس میں پلاٹوں کے کاغذات یا بیرونِ ملک دورے کے لیے ٹکٹ ہوں گے۔ لیکن ان لفافوں میں وہی بیان تھا جو ملک ریاض نے سپریم کورٹ میں جمع کروایا تھا۔
جب ملک ریاض سپریم کورٹ کی پیشی کے بعد کرسٹل بال روم میں صحافیوں کی عدالت میں پیش ہوئے تو خاموشی کے بجائے شور مچ گیا اور صحافیوں کو بار بار نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنے کو کہا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملک ریاض انتہائی جارحانہ موڈ میں تھے اور ایسے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ تمام کشتیاں جلا کر آئے ہیں۔
تیوری چڑھائے، کھرب پتی ملک ریاض نے قرآن کا ایک نسخہ ہاتھ میں اٹھا رکھا تھا اور انہوں نے ڈاکٹر ارسلان کے بجائے، چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری پر تابڑ توڑ حملے کیے لیکن ساتھ ہی ایک صحافی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ آج بھی چیف جسٹس آف پاکستان کی عزت کرتے ہیں۔
وہ جو کہنے کی ٹھان کر کر آئے تھے وہ انہوں نے بےچین صحافیوں کے نعروں کو نظر انداز کرتے ہوئے کہہ ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ وہ توہینِ عدالت کا سامنا کرنے کو تیار ہیں اور جیل جانے کو بھی تیار ہیں۔ انہوں واضح کیا کہ وہ اپنا مستقبل داؤ پر لگا کر اس معاملے سے نمٹنے کے لیے آئے ہیں۔
جب سوال و جواب کا موقع آیا تو میریٹ کے اس ہال میں موجود صحافی برداری جیسے ان پر ٹوٹ پڑی۔ بعض صحافی چلائے کہ ’ملک ریاض آپ قرآنِ پاک اٹھا کر بتائیں کہ آپ نے کتنے صحافیوں کو رشوت دی ہے؟ ان کے کیا نام ہیں؟‘
انہوں نے مختصر سا جواب دیا ’جھوٹ ہے۔‘ صحافیوں کی مزید چیخ و پکار اور اصرار پر انہوں کہا، ’ہر سوال کا جواب دینا مجھ پر لازم نہیں ہے۔‘
جب صحافیوں کا شورو غل مزید بڑھا تو ملک ریاض نے اچانک سے پریس کانفرنس ختم کر دی اور اپنی ٹیم کے ہمراہ دبے پاؤں کرسٹل بال روم کے عقبی دروازے سے یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ ’جو انکشاف میں نے کرنے تھے، وہ میں کر چکا ہوں۔ باقی میں دو تین دن بعد ایک اور پریس کانفرنس میں کروں گا‘۔
ملک ریاض تو چلے گئے لیکن وہاں موجود کچھ صحافی اس ہنگامہ خیز پریس کانفرنس کے اچانک اختتام سے مایوس نظر آئے تو وہیں کچھ کو یہ سب کچھ احمقانہ لگا۔
ایک انگریزی اخبار کے سینیئر رپورٹر نے کہا ’پورے کیرئیر میں میں نے اتنی احمقانہ پریس کانفرنس نہیں دیکھی‘۔
ایک رپورٹر نے صحافیوں کے برتاؤ پر تنقید کی تو یہ سوال بھی اٹھا کہ ’جب یہ معاملہ عدالت میں ہے تو ایسی پریس کانفرنس کرنا ملک ریاض کو زیب دیتا ہے‘۔
یہ سب سوال اپنی جگہ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اگلی پریس کانفرنس میں ملک ریاض اپنے ’انکشافات‘ کے بعد جواب دینے کے موڈ میں ہوں گے یا نہیں۔







