سرکریک، سیاچن کے معاملے پر پاک بھارت مذاکرات

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان اور بھارت کے سیکرٹری دفاع کے راولپنڈی میں سرکریک اور سیاچن کے معاملے پر مذاکرات جاری ہیں۔
ان مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی سیکرٹری دفاع نرگس سیٹھی کریں گی جبکہ بھارتی سیکریٹری دفاع ششی کانت شرما ان مذاکرات میں بھارت کی نمائندگی کرنے کے لیے اپنے وفد کے ہمراہ اتوار کو اسلام آباد پہنچے۔
دو روزہ مذاکرات کا پہلا دور پیر کو ہوا تھا۔
بھارتی خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق بھارتی وزیرِ دفاع اے کے انٹونی نے اتوار کو کہا کہ ان مذاکرات میں کسی اہم پیش رفت کی امید نہ رکھی جائے۔
<link type="page"><caption> بہترین دوست اور بدترین دشمن ہی آتا ہے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2012/06/120611_siachin_battle_pics_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
’کسی قسم کے ڈرامائی اعلان یا فیصلے کی توقع ان مذاکرات سے نہ رکھی جائے کیونکہ یہ دونوں معاملات بہت حساس ہیں اور قومی سلامتی کے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا تھا کہ سیاچن کے معاملے پر بھارت کی واضح پالیسی ہے اور سیکریٹری دفاع پاکستان کو بھارت کی پوزیشن واضح کریں گے۔
یاد رہے کہ سیاچن کے سیکٹر گیاری میں برفانی تودہ گرنے سے پاکستان کے 139 فوجی اور سویلین اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل کیانی نے کہا تھا کہ بھارت اور پاکستان کو سیاچن سمیت تمام مسائل عوامی فلاح و بہبود کے لیے حل کرنے چاہیں اور دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ بقائے باہمی کے اصول کے تحت پرامن رہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آرمی چیف نے کہا تھا کہ سیاچن پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے ایک مشکل ترین محاذ جنگ ہے اور اس پر دونوں ممالک کے بیش بہا اخراجات ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیاچن کا مسئلہ حل ہوگا۔
انہوں نے کہا تھا کہ ’سیاچن کا مسئلہ حل ہونا چاہیے اور یہ کیسے حل کرنا ہے اس بارے میں دونوں ممالک بات چیت کریں۔ ایک وقت پر ہم اس معاملے کے حل کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن حل نہیں ہوا۔ ہمیں عوام کی فلاح کے لیے یہ معاملہ حل کرنا چاہیے۔‘







