ہزاروں والدین کا بچوں کو پولیو قطرے پلانے سے انکار

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ خیبر پختونخواہ میں انیس ہزار بچوں کے والدین نے حالیہ پولیو سے بچاؤ کی مہم کے دورن اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا ہے۔
جبکہ ایک لاکھ بچے گھروں میں موجود نہیں تھے لیکن حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ ان بچوں کو راستوں میں یا کہیں نہ کہیں قطرے پلائے جا چکے ہوں گے۔
پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر اگرچہ کام جاری ہے اور گزشتہ ماہ پولیو کے خاتمے کے لیے مہم منعقد کی گئی جن میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو کے خاتمے کے لیے قطرے پلائےگئے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں پولیو مرض کے خاتمے کے لیے قائم سرکاری ادارے ای پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر جانباز آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ ماہ منعقد ہونے والی مہم میں تقریباً انیس ہزار بچوں کے ولدین نے اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کر دیا تھا جن میں سے کچھ کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی ہے اور کچھ علاقوں میں علماء کے ذریعے والدین کو سمجھایا گیا ہے۔
صوبہ خیبر پختونخواہ میں پولیو کے خاتمے کے لیے قانون سازی بھی عمل میں لائی جا رہی ہے جبکہ عدالت عالیہ کی جانب سے بھی سخت تاکید کی گئی ہے سرکاری سطح پر کاغذی کارروائی کے لیے والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی سرٹیفیکیٹ پیش کریں گے۔
ڈاکٹر جانباز نے کہ اگرچہ اٹھانوے فیصد بچوں کو قطرے پلائے گئے ہیں او ان کا ٹارگٹ پچاس لاکھ بچوں کو قطرے پلانا تھا۔ لیکن ایک لاکھ بچے ایسے تھے جو گھروں میں اس وقت موجود نہیں تھے جب ان کی ٹیمیں انہیں قطرے پلانے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ غالب گمان یہی ہے کہ ان بچوں کو راستوں میں کہیں قطرے پلائے جا چکے ہوں گے۔
پاکستان میں اس سال اب تک پولیو کے سولہ مریض سامنے آئے ہیں جن میں سات کا تعلق قبائلی علاقوں اور چار کا تعلق صوبہ خیبر پختونخواہ سے ہے۔
ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ قبائلی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے بڑی تعداد میں بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلائے جا سکے۔ ایک اطلاع ہے کہ بعض قبائلی علاقوں میں چونسٹھ فیصد تک بچے پولیو کے قطرے نہیں لے سکے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر جانباز نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی اور کہا کہ انتہائی مشکل علاقے خیبر ایجنسی میں تیراہ اور میدان ہیں اور ان کی ٹیمیں ان علاقوں میں بھی پہنچی ہیں۔
خیبر ایجنسی میں جاری فوجی آپریشن اور وہاں سے لوگوں کی نقل مکانی کی وجہ سے پولیو مہم میں حکام کو مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حکام کا کہنا ہے کہ مسلسل نقل مکانی سے پولیو مہم متاثر ہوئی ہے۔
حکام نے کہا کہ فاٹا اور خیبر پختونخوا میں کشیدگی کے باعث زیادہ تر علاقوں سے نقل مکانی ہوئی ہے یا ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس نقل مکانی کی وجہ سے اکثر اوقات پولیو کا وائرس باآسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتا ہے جس کی وجہ سے اس پر قابو پانے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔







