غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کے لیے نئی ڈیڈلائن

،تصویر کا ذریعہGetty
صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں حکومت نے غیر قانونی طور پر رہائش پزید افغان پناہ گزینوں سے کہا ہے کہ وہ پچیس مئی سے پہلے واپس اپنے وطن چلے جائیں جبکہ پشاور شہر میں باہر سے آکر آباد ہونے والے تمام افراد کی تھانے میں رجسٹریشن کو ضروری قرار دے دیا گیا ہے۔
پشاور شہر اور قریبی علاقوں میں دھماکوں اور راکٹ باری کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد انتظامیہ نے حفاظتی انتظامات سخت کردیے ہیں۔
پشاور شہر کے اہم علاقے گزشتہ ایک ہفتے سے شدت پسندوں کے نشانے پر ہیں جہاں پولیس اہلکاروں پر حملوں کے علاوہ رہائشی علاقوں میں راکٹ باری کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔
پشاور سے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے ان تمام افغان پناہ گزینوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر واپس وطن چلے جائیں جن کے پاس پاکستان میں رہائش کے باقاعدہ دستاویزات نہیں ہیں۔ حکومتی اعلان میں کہا گیا ہے کہ تمام غیر قانونی طور پر رہائش پزید افغان پناہ گزینوں کے خلاف پچیس مئی کے بعد سے سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
جائنٹ سکریٹری سیفران ڈاکٹر عمران زیب نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اعلان ان غیر قانونی طور پر رہائش پزیر افغان پناہ گزینوں کے لیے ہے جبکہ قانونی طور پر رہائش پزیر افغان پناہ گزین اس سال تیس دسمبر تک رہ سکتے ہیں جس کے بعد ان کے مستقبل کے حوالے سےحکومت پاکستان کوئی فیصلہ کرے گی۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کی ترجمان دنیا اسلم خان کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ پاکستان تیس دسمبر کے بعد جو بھی فیصلہ کرے گا وہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہو گا۔
انھوں نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان اور یو این ایچ سی آر ان پناہ گزینوں کے مسقتبل کے حوالے سے ایسا فیصلہ کریں گے جو سب کو قبول ہو۔
اس کے علاوہ ادھر پشاور شہر میں امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے حکومت نے سخت اقدامات شروع کر دیے ہیں اور قبائلی علاقوں سے آکر مختلف علاقوں میں آباد افراد کی فوری رجسٹریشن کا حکم دیا گیا ہے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پشاور میں انتظامی افسران کے مطابق یہ فیصلہ امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے کیا گیا ہے اور آپریشن سے متاثرہ افراد کو پابند کرنا ہے کہ وہ کیمپوں تک محدود رہیں۔
انتظامی افسر نے بتایا کہ پراپرٹی ڈیلرز کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ باہر سے آکر مکان کرائے پر لینے یا خریدنے والے افراد کی تھانے میں ضرور رجسٹریشن کرائیں، نہیں تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔







