سینیٹ کے انتخابات، ایک اہم پیش رفت

طویل عرصے بعد ایک سیاسی کارکن سینیٹ کا چیئرمین منتخب ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنطویل عرصے بعد ایک سیاسی کارکن سینیٹ کا چیئرمین منتخب ہوا ہے
    • مصنف, اعجاز مہر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں سینیٹ کے انتخابات اور ایوان بالا کے نئے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا چناؤ ہوچکا ہے اور اس عمل کو ملک میں ناپائیدار جمہوری نظام کے استحکام کی طرف ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

پہلی بار اقلیتوں کے نمائندے سینیٹ میں منتخب ہوئے ہیں، پہلی بار مڈل کلاس کے سیاسی کارکن اور ماضی کی روایت کے نسبت بزرگوں کے بجائے کچھ نوجوان چہرے بھی اس ایوان میں نظر آرہے ہیں۔

اب تو پارلیمانی کوریج کرنے والے اکثر صحافی بھی مانتے ہیں کہ اس عمل سے سینیٹ کا سیشن ’بورنگ‘ کم ہوگا اور شاید قومی اسمبلی جیسا ہلہ گلہ یہاں بھی ہوگا۔

سیاسی جماعتوں کی قیادت کی جانب سے نوجوان اور متوسط سیاسی کارکنوں کو سینیٹ میں آگے لانے کی ایک اہم وجہ ان کے ماضی کے تجربات اور مستقبل کے خدشات بھی ہیں۔

ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی ہو، مسلم لیگ (ن)، متحدہ قومی موومنٹ ہو یا پھر مسلم لیگ (ق)، ان میں حسب ضرورت اسٹیبلشمینٹ نے آسانی سے گروہ بندی کر کے’فارورڈ بلاک‘ بنوائے اور اپنا کام چلایا۔

پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ اس بار زیادہ تر اپنے متوسط طبقے کے کارکنوں کو آگے لائی ہیں۔

سینیٹ میں ماضی میں اکثر مالدار لوگ کروڑوں روپے خرچ کرکے سینیٹر بنتے رہے ہیں جس کی ایک بڑی مثال گزشتہ سینیٹ میں سینیٹر گلزار کا اپنے دو بیٹوں کے ساتھ آزاد حیثیت میں صوبہ خیبر پختونخوا سے سینیٹر منتخب ہونا ہے۔

اس بار بھی بلوچستان اور فاٹا سے سب سے زیادہ ووٹوں کی خرید و فروخت کی خبریں آئیں لیکن اس کے ساتھ ایک نئی اور اچھی روایت موجودہ حکومت کے دور میں یہ بھی ڈالی گئی کہ سینیٹ میں سیاسی جماعتوں نے پیسے کے استعمال کو روکنے کے لیے اپنے اپنے امیدواروں کو بلامقابلہ منتخب کروایا۔

اس بار سینیٹ کے انتخابات کو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ، سیاسی جماعتیں اور ذرائع ابلاغ بہت زیادہ اہمیت دے رہے تھے اور گزشتہ ایک سال سے قیاس آرائیاں ہو رہیں تھیں کہ یہ انتخابات نہیں ہوں گے اور شاید اس سے پہلے ہی حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائےگا۔

سب جانتے تھے کہ مارچ میں سینیٹ کے انتخابات کے بعد جہاں موجودہ حکومتی اتحاد کو سینیٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل ہونی تھی وہاں حکمران پیپلز پارٹی کو ایک سو چار اراکین کے ایوان میں چالیس سے زائد نشستیں مل جاتیں اور سب سے اہم بات کہ صدرِ پاکستان کے عہدے پر آصف علی زرداری کے دوبارہ منتخب ہونے کی راہ ہموار ہو سکتی تھی۔

ایسا ہونے کی صورت میں ایک تو حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کا مستقبل کے سیاسی سیٹ اپ سے مشترکہ مفاد وابستہ ہو جاتا اور تبدیلی کے خواہشمندوں کے لیے یہ مایوس کن صورتحال ہوتی۔

دوسرا یہ کہ پیپلز پارٹی کی سینیٹ میں اکثریت انہیں مستقبل کے سیاسی سیٹ اپ سے باہر کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنتی کیونکہ اگر پیپلز پارٹی مستقبل کے اقتداری کھیل سے باہر ہو بھی گئی تو حکومتِ وقت کے لیے سینیٹ سے قانون سازی میں بہت مشکلات پیدا ہوں گی۔

یہی وجہ تھی کہ سینیٹ انتخابات رکوانے کے لیے جہاں’خفیہ فرشتے‘ پریشان تھے وہاں عدلیہ، میڈیا اور اپوزیشن کے فورمز پر بھی غیر معمولی سرگرمیاں نظر آئیں۔ ایک موقع پر تو یہ چہ مہ گوئیاں بھی ہونے لگیں کہ جمہوری نظام کی بساط کہیں لِپٹ نہ جائے۔

انہی خدشات کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت نے سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شدید اختلافات کے باوجود اتفاق رائے سے بیسویں ترمیم منظور کر کے غیر جمہوری قوتوں کو یہ پیغام دیا کہ جمہوری نظام کے استحکام کی قیمت پر وہ کوئی سودا کرنے کو تیار نہیں۔

ان انتخابات کے بارے میں جو بھی قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں وہ دو مارچ کو سینیٹ کے انتخابات اور بارہ مارچ کو نومنتخب سینیٹرز کے حلف اور نئے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے ساتھ ہی دم توڑ گئیں۔

طویل عرصے بعد ایک سیاسی کارکن سینیٹ کا چیئرمین منتخب ہوا ہے کیونکہ ماضی میں اکثر طور پر اس عہدے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا امیدوار ہو یا سیاسی جماعتوں کا وہ سیاست میں ’پیرا شوٹ‘ سے ہی اترنے والے ٹیکنوکریٹ ہوتے تھے۔

شاید یہی وجہ تھی کہ سینیٹ میں حلف برداری کی تقریب میں پیپلز پارٹی کے جیالوں نے ’ایک زرداری سب پر بھاری۔۔۔شیروں کا شکاری زرداری۔۔۔خطروں کا کھلاڑی زرداری ۔۔۔اگلی باری پھر زرداری‘ جیسے نعرے لگائے۔

سینیٹ انتخابات کا بخیروخوبی ہو جانا پاکستان میں جمہوری عمل کے تسلسل اور استحکام کے لیے ایک مثبت قدم سمجھا جا رہا ہے جس کا کریڈٹ تمام سیاسی جماعتوں کو جاتا ہے کیونکہ اس سے اگر کسی کا نقصان ہوا ہے تو وہ صرف اور صرف ساٹھ برسوں سے پاکستان میں سیاہ و سفید کا مالک بنی ہوئی اسٹیبلشمنٹ اور ’فوجی فرینڈلی فیملیز‘ کا ہی ہوا ہے۔