’شناخت دینے والے خود بے شناخت‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
کراچی میں نادرا کے ملازمین پر پولیس نے لاٹھی چارج اور شیلنگ کی جبکہ دو درجن کے قریب نادار کے افسران اور ملازمین کو گرفتار بھی کیا گیا۔
ملک بھر میں قومی اندراج اور رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کے دفاتر بند رہے۔ کراچی میں صوبائی ہیڈ کوارٹر میں جمعرات کی صبح ملازمین احتجاج کے لیے جمع ہوئے تو پولیس نے چھوٹے ملازمین کے ساتھ افسران پر بھی لاٹھی چارج کیا اور اس دوران نصف درجن ملازمین معمولی زخمی ہوگئے۔
یہ ملازمین بعد میں پریس کلب کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئے، جہاں پولیس نے ان ملازمین پر واٹر کینن کے استعمال کے ساتھ آنسو گیس کے گولے پھینکے اور دو درجن کے قریب ملازمین کو گرفتار کرلیا، جنہیں بعد میں اعلیٰ حکام کی مداخلت پر رہا کردیا گیا۔
کاشف زیدی اس شیلنگ میں زخمی ہوئے، جنہیں جناح ہسپتال پہنچایا گیا، انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی شیلنگ ہوئی تو بھگدڑ مچ گئی اور وہ بھاگ رہے تھے کہ پیچھے سے ایک شیل سر پر لگ گیا، جس سے سر سے خون نکلنے لگا بعد میں ڈاکٹروں نے چار ٹانکے لگائے ہیں۔
کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ ملازمین نے بیس فروری کو احتجاج کا آغاز کیا تھا۔گزشتہ روز نادرا انتظامیہ نے اکسٹھ چھوٹے ملازمین کو نوکری سے برطرف کردیا، جس سے ملازمین مزید مشتعل ہوگئے۔
نادرا ایمپلائز ویلفیئر ایسو سی ایشن کے رضا سواتی کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ دس برس سے کام کر رہے ہیں اور ہر بار یقین دہانی کرائی گئی مگر مستقل نہیں کیا گیا۔
’دو ہزار نو کے اعلان پر عمل نہیں ہوا، اس کے بعد دو ہزار دس کو چیئرمین سے مذاکرات ہوئے انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ایک ماہ کے اندر مسقل کریں گے، اس کو ایک سال گزر گیا بعد میں دو ہزار گیارہ کو احتجاج کیا، چیئرمین نے نوٹیفیکشین جاری کیا مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہوا اور کہا گیا کہ وہ نوٹیفیکیشن جعلی تھا، اس لیے اب ان پر اعتبار نہیں رہا۔‘
ملازمین نے الزام عائد کیا کہ اعلیٰ منصب پر فائز افسران نہیں چاہتے کہ ملازمین مستقل ہوں کیونکہ اس سے ان ریٹائرڈ اہلکاروں کی ملازمت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نادرا کے ایک افسر کفایت میرانی نے بتایا کہ اندرون ملک اور بیرون ملک تمام آپریشنز بند ہیں۔
’جو موبائل ٹیمیں دیہی علاقوں میں جاتی ہیں ان کی سروس معطل ہے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بھی نادرا کے ذریعے جاری تھا وہ بھی بند کردیا گیا ہے، اس کے علاوہ متاثرینِ سیلاب کو جو کارڈ فراہم کیے جاتے ہیں ان کا اجراء بھی نہیں ہو رہا ہے جبکہ بیرون ملک نادرا کے مراکز میں بھی کام بند ہے۔‘
ملازمین کا کہنا تھا کہ وہ لوگوں کو شناخت دیتے ہیں مگر آج خود شناخت سے محروم ہیں، جب تک انہیں مستقل نہیں کیا جاتا وہ احتجاج جاری رکھیں گے۔
ملازمین کا کہنا تھا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے احکامات پر رات دن کام کر کے انتخابی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کیا، اس کا صلہ انہیں ملازمت سے فارغ کر کے دیا جارہا ہے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو اس کا نوٹیس لینا چاہیے۔







