نادرا، عارضی ملازمین کا ملک گیر احتجاج

،تصویر کا ذریعہother

پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں نادرا کےعارضی ملازمین نے آج یعنی پیر کو احتجاج شروع کر دیا ہے جبکہ بلوچستان میں ایک ہفتے سے نادرا دفاتر کی تالا بندی جاری ہے۔

ہڑتال پر ملازمین کا مطالبہ ہے کہ ملک بھر میں چودہ ہزار عارضی ملازمین کومستقل کیا جائے جبکہ ہڑتال ختم کرانے کے لیے حکومت کے ملازمین سے مذاکرات ہو رہے ہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق نادرا کے عارضی ملازمین نے کراچی، لاھور اور اسلام آباد میں بھی دفاتر بند کر کے احتجاج شروع کر دیا ہے۔

بلوچستان کے بارہ سو عارضی ملازمین نےگذشتہ ایک ہفتے سے صوبہ بھر میں دفاتر کی تالا بندی کر کے کوئٹہ میں علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ میں احتجاج کر رہے ہیں۔

ہڑتالی ملازمین کے نمائندے عصمت کاکڑ کے مطابق پورے ملک میں چودہ ہزار عارضی ملازمین ہیں جوگذشتہ دس سالوں سے خدمات سر انجام دے رہے ہیں لیکن انہیں مستقل نہیں کیاگیا ہے۔

ایک اور ملازم نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے کئی بار انہیں مستقل کرنے کے اعلانات کیے ہیں۔ ’لیکن نادرا میں موجود بعض ریٹائرڈ فوجی افسران ہماری مستقلی میں رکاوٹ ہیں۔ وہ عارضی ملازمین کے مستقل ہونے سے خوفزدہ ہیں کہ کہیں مستقبل میں ریٹائرڈ فوجیوں کو نادرا سے فارغ نہ کیا جائے۔‘

نادرا کے ملازمین کی ہڑتال کی وجہ سے شناختی کارڈ، پاسپورٹ، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، وطن کارڈ کے حصول میں نہ صرف عام لوگوں کوشدید مشکلات کا سامنا ہے بلکہ ووٹر لسٹوں کی اندراج کا کام بھی بند ہے۔ تاہم ہڑتالی ملازمین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ہڑتال کرنے کے سوائے کوئی اور راستہ نہیں تھا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر سردار عمر گورگیج کے ذریعے کوئٹہ میں نادرا کے ہڑتالی ملازمین سے رابطہ کر لیا ہے تاحال ان کے مطالبات تسلیم نہیں ہوئے ہیں۔