پاک بھارت تجارت:اہم معاہدوں پر دستخط

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت اور پاکستان نے تجارت کو فروغ دینے اور تجارتی تعلقات کو مزید بہتر کرنے کے لیے تین اہم معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔
وفاقی وزیرِ تجارت مخدوم امین فہیم نے بدھ کو اپنے بھارتی ہم منصب آنند شرما سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور دونوں وزائے تجارت نے وفود کی سطح پر مذاکرات کیے۔
نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق جن تین معاہدوں پر دستخط کیے گئے اس میں کسٹمز تعاون معاہدہ، باہمی تسلیماتی معاہدہ اور ریڈریسل آف ٹریڈ گریونس ایگریمنٹ شامل ہیں اور پاکستان کی وفاقی کابینہ نے منگل کو ان تینوں معاہدوں کی منظوری دی تھی۔
دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد دونوں وزرائے تجارت نے مشترکہ پریس کانفرنس کر کے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ دونوں ممالک نے تجارت کو فروغ دینے کے لیے کسٹم قوانین میں نرمی اور تعاون پر اتفاق کیا اور واگھہ بارڈر پر اپریل تک مشترکہ کسٹم چوکی بنا دی جائے گی۔
بیان کے مطابق ریڈریسل آف ٹریڈ گریونس ایگریمنٹ بہت اہم ہے کیونکہ دورانِ تجارت اگر کسی ملک کے تاجر کو کوئی شکایت ہوتی ہے تو ان کو دور کرنے کے لیے نظام مرتب کیا جا رہا ہے۔
مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ دونوں ممالک میں بینکوں کی شاخیں کھولنے کے لیے اگلے ماہ ممبئی میں دونوں ممالک کی مرکزی بینکوں کے حکام کا اہم اجلاس ہوگا اور اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیرِ تجارت مخدوم امین فہیم نے مشترکہ پریس کانفرنس میں مصنوعات کی نیگیٹو لسٹ پر پوچھے گئے ایک سوال میں کہا کہ اس معاملے پر بھی سنجیدگی سے غور ہو رہا ہے اور اسی ماہ کے آخر میں کچھ مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
اس سے پہلے بھارت کے وزیر تجارت و صنعت آنند شرما نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تجارت میں اضافے سے وہ طاقتیں مضبوط ہوں گی جو امن چاہتی ہیں اور ان کو نقصان ہوگا جو دہشت گردی کے راستے پر ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے مذاکرات میں تمام شعبوں پر بات چیت کی گئی اور دلی میں ہونے والے مذاکرات میں دونوں فریقین نے طے کر لیا تھا کہ کس طرح قدم اٹھانے چاہیئیں۔
بھارتی وزیر تجارت نے مزید کہا کہ جو قدم بھارت کو اٹھانے چاہیئے تھے وہ بھارت نے اٹھائے ہیں اور اب امید کرتے ہیں کہ پاکستان بھی بہت جلد وہ ضروری قدم اٹھائے گا تاکہ دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات مزید مستحکم ہوں اور پاکستان نے بھی اس خواہش کا بھی اظہار کیا ہے۔
بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کے حکومتِ پاکستان کے فیصلے پر پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے موسٹ فیورڈ نیشن کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ’یہ ڈبلیو ٹی او کی ایک ٹرمینولوجی ہے اور ڈبلیو ٹی او کے ممبر ممالک ایک دوسرے کو یہ درجہ دیتے ہیں اور اس سے تجارت کرنے میں آسانی ہوتی ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ تجارت کو بڑھانے کے لیے بھارت نے پہلے نے ہی پاکستان کو پسندیدہ ملک قرار دیا ہے اور امید کرتے ہیں کہ پاکستان بھی یہ درجہ دے گا کیونکہ اس معاملے پر بھی کافی مذاکرات ہو چکے ہیں۔
یاد رہے کہ بھارت کے وزیر تجارت آنند شرما بدھ کو تین روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے تھے اور انہوں نے لاہور اور کراچی میں پاکستانی تاجروں اور حکام سے ملاقات کی تھی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کےلیے ضروری قدم اٹھانے پر زور دیا تھا۔







