’دو تہائی نوزائیدہ بچے رجسٹر ہی نہیں ہوتے‘

پیدائش کے وقت رجسٹریشن بچے کا بنیادی حق ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپیدائش کے وقت رجسٹریشن بچے کا بنیادی حق ہے

بچوں کی بہبود کے عالمی ادارے یونیسف نے کہا ہے کہ ہر سال پاکستان میں پیدا ہونے والے دو تہائی بچوں کا سرکاری طور پر وجود ہی نہیں ہوتا یعنی کہ ان کی پیدائش کی رجسٹریشن نہیں ہوتی اس لیے ان کا شمار ہی نہیں ہو پاتا۔

یونیسف کے پاکستان میں ترجمان سمیع ملک نے بی بی سی اردو کے احمد رضا سے بات کرتے کہا کہ ‘پاکستان میں سالانہ تقریباً پینتالیس لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں اور اس میں سے تیس لاکھ بچے جو ہیں وہ سرکاری طور پر ریکارڈ ہی نہیں ہوتے کیونکہ ان کی رجسٹریشن نہیں ہوتی‘۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں سب سے زیادہ خراب صورتحال بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں ہے جہاں پیدائش کے وقت بچوں کی رجسٹریشن کی شرح صرف ایک فیصد ہے جبکہ صوبہ سندھ اور پختونخواہ میں یہ شرح بیس فیصد اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں چوبیس فیصد ہے۔

تاہم پنجاب میں پیدائش کے وقت بچوں کی رجسٹریشن کرانے کا رجحان ملک کے دوسرے حصوں کے مقابلے سب سے زیادہ ہے اور وہاں یہ شرح ستتر فیصد ہے۔

اتوار کو دنیا بھر میں بچوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ یونیسیف کہتی ہے کہ بچے کے حقوق کے تحفظ اور بہتر مستقبل کے لیے یہ بات بنیادی اہمیت کی حامل ہے کہ پیدائش کے وقت اس کی رجسٹریشن ہو۔

سمیع ملک کہتے ہیں کہ ’جب مردم شماری ہوتی ہے اور ملک کی آبادی کا تعین کیا جاتا ہے اسی کی بنیاد پر حکومت منصوبہ بندی کرتی ہے کہ صحت، تعلیم اور دوسری سہولیات کی مزید کیا ضرورت ہے، تو بچوں کی رجسٹریشن نہ کرانے کے رجحان سے یہ پورا عمل متاثر ہوتا ہے‘۔

ان کے بقول بچوں کی رجسٹریشن نہ کرانے کے رجحان کی ایک وجہ اس کی اہمیت کی آگاہی نہ ہونا اور دوسری وجہ دیہی علاقوں میں سہولتوں کا فقدان ہے۔

’مسئلہ صرف یہ ہے کہ بچے کے اٹھارہ سال کے ہونے تک والدین کو اس کی ضرورت پیش نہیں آتی اور کئی لوگوں کو اس بات کی سمجھ نہیں ہے کہ پیدائشی سرٹیفیکیٹ کتنی اہم دستاویز ہے۔ ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب بچہ اٹھارہ سال کا ہوتا ہے اور اسے شناختی کارڈ بنوانا پڑتا ہے اور یہ مسئلہ دیہی علاقوں میں زیادہ ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ پیدائش کے وقت رجسٹریشن بچے کا بنیادی حق ہے اور یہ اسے اپنے ملک میں قانونی حیثیت دیتی ہے۔

سمیع ملک نے کہا کہ دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں آگاہی کے ساتھ ساتھ سہولیات کی بھی کمی ہے جس کی وجہ سے وہاں بچوں کی رجسٹریشن کا رجحان شہروں کی نسبت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیسیف پاکستان میں بچوں کی رجسٹریشن کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور اسکے لیے ضروری سہولیات میں اضافے کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے۔