مذاکرات کے لیے آپریشن بند کریں:طالبان

طالبان فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناس سے پہلے طالبان نے حکومت سے بات چیت کرنے سے انکار کردیا تھا
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر اور باجوڑ طالبان کے اہم کمانڈر مولوی فقیر محمد نے کہا ہے کہ اگر حکومت واقعی امن مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو پھر اسے طالبان کے خلاف ہر قسم کے آپریشن بند کرنے ہونگے۔

مولوی فقیر محمد نے اتوار کو افغانستان کے کسی نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر بی بی سی کو بتایا کہ اس طرح نہیں ہوسکتا کہ حکومت فوجی کاورائیاں بھی جاری رکھے اور ساتھ ساتھ مذاکرات کی دعوت بھی دیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ ایک ہی وقت میں مذاکرات اور آپریشن کی بات کرنا احمقانہ پالیسی ہے‘۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کو اعتماد سازی کے لیے عسکریت پسندوں کے خلاف ہر قسم کی کاروائیاں بند کرنے ہوگی۔ تاہم انہوں نے واضح الفاظ میں یہ نہیں بتایا کہ وہ حکومت سے بات چیت کےلیے آمادہ ہیں۔ اس سے پہلے طالبان نے حکومت سے بات چیت کرنے سے انکار کردیا تھا۔

مولوی فقیر محمد کا مزید کہنا تھا کہ جو کوئی اسلامی نظریہ اور اسلامی ملک کا حقیقی معنوں میں حمایت کرے گا طالبان نہ صرف ان کے ساتھ کھڑے ہونگے بلکہ ان کا دفاع بھی کرینگے۔

طالبان کمانڈر سے با بار سوال پوچھنے کے باوجود بھی وہ اس بات کو واضح نہیں کرسکے کہ ان کی اس بات کا اشارہ کس کی طرف ہے ، کسی سیاسی جماعت یا سیاسی شخصیت کی جانب ہے لیکن بظاہر ایسا لگا کہ ان کا اشارہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے حالیہ بیانات کی جانب تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ’ لبرل ہیں اور طالبان کے طرف دار نہیں ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت کفری طاقتوں کے کہنے پر ’ مجاہدین‘ کے خلاف آپریشن جاری رکھتی ہے اور طالبان بھی اپنی کاروائیوں میں عام لوگوں کے نقصانات کا خیال نہیں رکھتے ہیں تو پھر اس سے امت مسلمہ میں مایوسی پیدا ہوگی۔

تاہم دوسری طرف اعلٰی حکومتی اہلکاروں کی طرف سے حالیہ دنوں میں ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جس سے بظاہر لگتا ہے کہ حکومت عسکریت پسندوں بالخصوص تحریک طالبان سے مذاکرات اپنے شرائط پر کرنا چاہتی ہے۔ حکومت ایسا تاثر دے رہی ہے کہ اگر ان کے مطالبات مانے جاتے ہیں تو ٹھیک ورنہ اسے مذاکرات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

آسلام آباد میں ستمبر کے ماہ میں ہونے والے آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر یہ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا کہ امن کی خاطر طالبان تنظیموں کو مذاکراتی عمل شامل کرلیا جائے گا لیکن اب حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ عسکریت پسند پہلے اسلحہ رکھ دیں پھر بات چیت ہوگی۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ن ملک نے حالیہ دنوں میں دو تین مرتبہ اس بات کو دہرایا ہے کہ ’ طالبان پہلے ہتھیار پھنکیں اس کے بعد ان سے مذاکرات ہوسکتے ہیں۔‘ حالانکہ آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیہ میں ایسی کوئی شرط نہیں رکھی گئی تھی۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق کانفرنس کے دوران کچھ سیاسی جماعتوں کے پرزور مطالبے پر اس بات کو آخری وقت میں اعلامیہ میں شامل کیا گیا کہ قبائلی علاقوں میں امن قائم کرنے کے لیے اپنے لوگوں یعنی عسکریت پسندوں سے مذاکراتی عمل کا آغاز کیا جائے۔

اس سے پہلے یہ کم ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ حکومت نے بات چیت شروع کرنے سے پہلے طالبان کے سامنے کوئی پیشگی شرائط رکھی ہوں۔ قبائلی علاقوں میں عام طورپر یہ ہوتا ہے کہ جب مذاکراتی عمل کا آغاز ہوتا ہے تو تب فریقین اپنے اپنے مطالبات جرگہ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے پیشگی مطالبے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تحریک طالبان کو دباؤ میں رکھنا چاہتی ہے تاکہ ان سے اپنے مطالبات منوائے جاسکے۔

اس کے علاوہ ایک اہم بات یہ بھی کہی جا رہی ہے کہ سکیورٹی فورسز نے کچھ عرصہ سے تحریک طالبان کے خلاف کئی علاقوں میں کامیاب کاروائیاں کی ہیں جس سے طالبان قیادت کو نہ صرف پاک افغان سرحدی علاقوں تک محدود کیا گیا ہے بلکہ وہ دباؤ کا بھی شکار نظر آتے ہیں۔ ان کاروائیوں کی وجہ سے تحریک کی سرگرمیاں کمزور پڑگئی ہے جبکہ ان کے حملے بھی کم ہوگئے ہیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کچھ عرصہ سے یہ اطلاعات گردش کررہی ہیں کہ حالیہ دنوں میں بعض طالبان اور حکومتی عہدیداروں کے مابین ابتدائی رابط بھی ہوا ہے تاہم فریقین کے موقف میں سختی کے باعث بات چیت آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔