’اختیار وزیر اعظم کا، لیکن عدالت جائزہ لے سکتی ہے‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سپریم کورٹ نے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سہیل خان کو وزیرِ اعظم کی جانب سے افسر بکار خاص (او ایس ڈی) بنانے کے نوٹیفیکیشن کو ناقابلِ عمل قرار دے دیا ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ سات روز کے اندر اندر سہیل خان کو سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن یا کسی اور عہدے پر تعینات نہیں کیا جاتا تو انہیں افسر بکار خاص بنانے کا نوٹیفیکیشن کالعدم تصور ہو گا۔
چیف جسٹس افتخار محمو چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے حج انتظامات میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کے مقدمے کی جمعہ کو سماعت کی۔
اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ عدالت کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ افسران کی تبدیلی اور تعیناتی کا اختیار وزیر اعظم کے پاس ہے لیکن عدالت اس کا جائزہ لینے کا اختیار رکھتی ہے۔
واضح رہے کہ حج انتظامات میں مبینہ بدعنوانی کے مقدمے کی تحقیقات حسین اصغر کو دوبارہ سونپنے سے متعلق سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سہیل خان نے منگل کو نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا۔
اس نوٹیفیکیشن کے جاری ہونے کے بعد ان کو او ایس ڈی بنا دیا گیا تھا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ گریڈ بیس سے اوپر افسران کی تبدیلی کا اختیار وزیر اعظم کا پاس ہے۔
اس سے پہلے سپریم کورٹ نے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سہیل خان کو افسر بکار خاص (او ایس ڈی) بنانے پر وزیر اعظم سے تحریری وضاحت طلب کی تھی اور وفاقی حکومت کو سہیل خان کو ان کے عہدے پر بحال کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے کی مہلت دی تھی۔
حسین اصغر پہلے حج انتظامات میں ہونے والی بدعنوانی کے مقدمے کی تفتیش کر رہے تھے لیکن وفاقی حکومت نے انہیں گلگت بلتسان میں پولیس کا سربراہ تعینات کردیا تھا تاہم سپریم کورٹ کے حکم پر اُنہیں دوبارہ اس مقدمے کی تفتیش سونپی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب گلگت بلتستان کی حکومت نے آئی جی پولیس حسین اصغر کی خدمات واپس کرنے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک کوئی نیا افسر ان کی جگہ تعینات نہیں کیا جاتا تب تک ان کی خدمات واپس نہیں کی جا سکتیں۔
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اس مقدمے کے تمام حقائق وزیرِ اعظم کے سامنے رکھے جائیں تاکہ بدعنوانی کے خاتمے میں مدد مل سکے۔
اس مقدمے میں حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی سمیت تین افراد گرفتار ہیں۔
عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔







