مسلم لیگ کوایم کیو ایم سے امیدیں

پاکستان میں حزب مخالف کی بڑی جماعت مسلم لیگ نون نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ حکومت سے علیحدگی کے بعد اب ایم کیو ایم اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر ایسے ٹھوس لائحہ عمل تک پہنچنے میں مدد کرے گی جس سے عوام کو موجودہ صورت حال سے نجات مل سکے۔

مسلم لیگ نون کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے حکومت سے علیحدہ ہونے سے اپوزیشن کو تقویت ملے گی۔

مسلم لیگ نون کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے اپوزیش میں شامل ہونے سے جہاں اپوزیشن کی تعداد میں اضافہ ہوگا وہیں اس کی طاقت بھی بڑھے گی۔

ایم کیو ایم وفاق اور صوبے میں حکومت سے علیحدہ ہوگئی ہے اور گورنر سندھ عشرت العباد بھی اپنے عہدے سے مستعفیْ ہوگئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق سے بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ نون کی یہ کوشش ہوگی کہ ایم کیو ایم کی پارلیمانی قیادت سے مل کر اپوزیشن کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کریں اور حکومت کی کرپشن اور بدنظمی کے خلاف ملک کا بہتر دفاع کرسکیں۔

احسن اقبال کا کہنا ہے کہ جمیعت علماء اسلام کے بعد اب ایم کیو ایم کی حکومت سے علیحدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کسی جمہوری ایجنڈے پر کام نہیں کررہی بلکہ اس کے اپنے مخصوص مقاصد ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت قومی مفاہمت کی پالیسی کا جو چرچا کرتی ہے وہ دراصل ایک لبادہ ہے جس کی آڑ میں مفادپرستی کے ایجنڈے پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔

مسلم لیگ نون کے رہنما نے کہا کہ حزف اختلاف کی جماعتیں اپنی شاخت برقرار رکھتے ہوئے سیاسی ایجنڈے کے بجائے قومی مفاد میں کسی اشتراک عمل پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں تاکہ ملک کو مسائل کی دلدل سے نکال جاسکے اور عوام کی مایوسی کا خاتمہ کیا جاسکے۔

احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پارلیمان میں حزب مخالف کی جماعتیں مختلف معاملات پر آپس میں اشتراک کرسکیں اور ملک کے مفاد میں حکومت کے خلاف موثر انداز میں اپوزیش کا کردار ادا کرسکیں تو یہ ایک نقطہ آغاز ہوسکتا ہے اور تو مسلم لیگ نون کی قیادت اس بات کا جائزہ لے گی کہ حالات کس سمت میں جاتے ہیں۔