عامر خان ایم کیو ایم میں واپس

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بیس برس پہلے متحدہ قومی موومنٹ سے علیحدگی اختیار کرکے آفاق احمد کے ساتھ مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) بنانے والے عامر خان نے ایک بار پھر متحدہ قومی موومنٹ میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔
عامر خان آٹھ برس سے جیل میں تھے اور تین ہی دن قبل رہا ہوئے ہیں۔ ان پر سیاسی کارکنوں یا ان کے رشتہ داروں کے قتل، اقدام قتل، اغواء، غیر قانونی اسلحہ اور تشدد جیسے کئی مقدمات درج تھے۔ سندھ ہائی کورٹ نے نو مئی کو عامر خان کی ضمانت منظور کی لیکن پیر کو رہائی کے احکامات تک انہیں نقصِ امن کے تحت جیل میں نظربند رکھا گیا۔
رہائی سے قبل ہی پاکستانی ذرائع ابلاغ میں ان کی متحدہ میں شمولیت کے اشارے ملنا شروع ہوئے جو اس وقت درست ثابت ہوئے جب وہ ایم کیو ایم کے رہنماؤں اور کارکنوں کے ہمراہ متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائین زیرو پہنچے اور ایم کیو ایم کے ہلاک و لاپتہ کارکنوں کے اہل خانہ سے معافی طلب کی۔
ایم کیو ایم کے اعلامیے کے مطابق ہلاک و لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ نے عامرخان کو معاف کردیا۔ جس کے بعد ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نے بھی انہیں معاف کرنے کااعلان کرتے ہوئے ان کی ایم کیوایم کی رکنیت بحال ہوجانے کی توثیق کردی۔
انیس سو نوّے کی دہائی تک عامر خان الطاف حسین کی قیادت میں قائم مہاجر قومی موومنٹ یا ایم کیو ایم کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری رہے۔ آفاق احمد بھی اسی تنظیم میں جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے پر ہی فائز تھے۔
انیس سو بانوے میں قیادت سے اختلافات کے بعد عامر خان اور آفاق احمد نے تنظیم کا علیحدہ دھڑا تشکیل دیا آفاق احمد چیئرمین اور عامر خان جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے کئی برس تک نئی تنظیم مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کی قیادت کرتے رہے۔
انیس سو بانوے میں ہی وزیراعظم نواز شریف کی حکومت نے فرقہ وارانہ اور سیاسی تشدد کا شکار کراچی میں آپریشن کلین اپ کے نام سے فوجی کارروائی کا آغاز کیا تو الطاف حسین نے لندن میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کی۔
اسی دوران ایم کیو ایم حقیقی سندھ کی صوبائی حکومت کا حصہ رہی اور اس کابینہ میں اس کے وزیر شامل رہے۔ آنے والے کئی برسوں میں الطاف حسین کی متحدہ اور عامر خان و آفاق احمد کی حقیقی کے ہزاروں کارکنان مختلف واقعات میں قتل کیے جاتے رہے۔ دونوں تنظیمیں ایک دوسرے کو ان ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیتی رہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انیس سو ستانوے میں الطاف حسین کی مہاجر قومی موومنٹ، متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل ہوگئی۔ حقیقی نے اپنی سرگرمیاں پنجاب سے بھی جاری رکھیں اور کراچی واپسی پر اس کے اکثر رہنما فوجی علاقوں، گیریژنز یا کینٹونمنٹ میں مقیم رہے۔
سنہ دو ہزار چھ بالآخر عامر خان اور آفاق احمد کے درمیان بھی سیاسی اختلاف پیدا ہوا اور مہاجر قومی موومنٹ حقیقی بھی دو دھڑوں میں بٹ گئی۔ آفاق احمد کی قیادت میں قائم دھڑا مہاجر قومی موومنٹ پاکستان اور عامر خان کی تنظیم کو مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کہا جانے لگا۔
دونوں رہنماؤں کے خلاف درج قتل، اقدام قتل اور دیگر سنگین جرائم کے کئی مقدمات کے تحت دو ہزار تین میں عامر خان اور دو ہزار چار میں آفاق احمد کو گرفتار کرلیا گیا۔ ان کی گرفتاری کے بعد لانڈی کے علاقے میں قائم حقیقی کے مرکزی دفتر بیت الحمزہ کو بھی مسمار کردیا گیا تھا۔
عامر خان کو لانڈھی میں ضمنی انتخاب کے موقع پر پولنگ کیمپ میں موجود متحدہ قومی موومنٹ کے دو کارکنوں کے قتل کے الزام میں ماتحت عدالت نے دس سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ اپریل دو ہزار چار میں عامر خان اور آفاق احمد کو ٹرائل کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی۔ لیکن سزا کے خلاف درخواست کی سماعت کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے ان دونوں کی سزائیں معطل کرتے ہوئے دس دس لاکھ روپے کی ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا مگر سندھ ہائی کورٹ میں پولیس فائل نہ ہونے کے سبب آفاق احمد کی درخواست ضمانت کی سماعت اٹھارہ اگست تک ملتوی کردی گئی ہے۔







