’براہِ راست کوریج سے آپریشن متاثر ہوا‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی میں پاکستانی بحریہ کے اڈے پی این ایس مہران پر دہشتگردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران اس سارے واقعے کی میڈیا پر براہِ راست کوریج کی وجہ سے آپریشن کرنے والی افواج کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑی ہے۔
کراچی میں جاری فوجی کارروائی کے بارے میں معلومات رکھنے والے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ رات گئےشروع ہونے والی پاکستانی فورسز کی جوابی کارروائی کے دوران پاکستانی میڈیا پر اس آپریشن کی براہ راست کوریج کی جارہی تھی اور ٹی وی چینلز پی این ایس مہران پہچنے والی کمانڈو یونٹس کی تفصیل بار بار ٹیلی وژن پر نشر کر رہے تھے۔
اس تفصیل میں ان کمانڈوز کی تعداد اور بعض صورتوں میں ان کے ہتھیاروں کی تفصیل بھی بتائی جا رہی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کوریج کا اعلیٰ سطح پر نوٹس لینے کے بعد نیوی بیس کے بیرونی دروازے کے قریب موجود صحافیوں اور خاص طور پر براہ راست کوریج کرنے والی ٹیلی وژن ٹیموں کو وہاں سے ہٹایا دیا گیا۔
پاکستانی اعلیٰ حکام اس وقت بہت سیخ پا ہوئے جب ان کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ پو پھوٹنے کے فوراً بعد جب ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے پاکستان آرمی کے کمانڈوز کو اس عمارت کی چھت پر اتارا گیا جس میں حملہ آور موجود تھے، تو اس کی تفصیل بھی ایک ٹیلی وژن چینل سے نشر کر دی گئی۔
یہ منظر تو ٹیلی وژن کیمرہ قریب نہ ہونے کے باعث دکھایا نہیں گیا لیکن ٹیلی وژن کے رپورٹر نے یہ’بریکنگ نیوز‘ دی کہ اس عمارت کی چھت پر کمانڈوز اتارے گئے ہیں جہاں حملہ آوروں نے پناہ لے رکھی ہے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ یہ خبر نشر ہونے کے کچھ ہی دیر بعد حملہ آور اس عمارت سے نکل کر ایک دوسری قریبی عمارت میں منتقل ہو گئے۔ تاہم ابھی یہ بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی کہ حملہ آوروں نے اپنی پوزیشن اس عمارت کی چھت پر کمانڈوز کے اترنے کی اطلاع ملنے پر تبدیل کی یا اس کی وجہ کچھ اور تھی۔
یاد رہے کہ اکتوبر سنہ دو ہزار نو میں پاکستانی فوج کے صدر دفتر جی ایچ کیو راولپنڈی پر اسی نوعیت کے ایک حملے کے دوران پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے پیمرا نے پاکستانی ٹیلی وژن چینلز کی نشریات عارضی طور پر بند کر دی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے مطابق ایسا کرنے کی درخواست پاکستانی فوج نے کی تھی۔ جنرل عباس کے مطابق ٹیلی وژن چینلز کی براہ راست کوریج کے باعث اس کارروائی میں شامل اہلکاروں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ جی ایچ کیو احاطے میں موجود دہشت گردوں کو ان کے ساتھی ماحول کے بارے میں بتا سکتے تھے جس سے آپریشن میں مشکلات پیش آ سکتی تھیں۔
اس کے علاوہ نومبر دو ہزار آٹھ میں ممبئی میں ہوئے شدت پسندوں کے حملوں کے کچھ عرصے بعد بھارتی حکام نے حملہ آوروں کی اپنے ساتھیوں کی ساتھ گفتگو کی تفصیل جاری کی تھی جس میں بعض افراد حملہ آوروں کی راہنمائی ٹیلی وژن پر اس واقعے کی کوریج دیکھ کر کر رہے تھے۔







